تین ایسی ٹپس جو ہر لڑکی چاہتی ہے ۔ عید سپیشل۔

عید کا موقع قریب ہے پانچ دن باقی رہ گئے ہیں اور عید ایک ایسا موقع ہے جب ہر ایک کا دل کر تا ہے ہر لڑکی کا دل کر تا ہے کہ میک اپ کیا جا ئے اگر پسینہ بہت زیادہ آ تا ہے تو ایسی حالت میں سکن پر ایسا کیا لگا لیا جا ئے کہ سکن فریش رہے۔ سکن پر آئل نہ آ ئے اور سکن کے اوپر زیادہ

پسینہ نہ آ ئے تو آج ہم آپ کو ایک ایسی ٹپ دینے والے ہیں کہ جس کے استعمال سے آپ کو بہت ہی زیادہ فائدہ ہونے والا ہے۔ اس میں سب سے پہلے ہم انڈے کی سفیدی لیں گے آپ نے انڈے کی سفیدی ہی لینی ہے میں انڈے کی سفیدی کو الگ کر رہی تھی آپ نے ایک بڑا کھانے کا چمچ جو ہے ایک براؤن شوگر آپ نے لے لینی ہے۔ اور اس کے بعد آپ اس کے اندر جو ہے کھیرے کا جوس شامل کر یں گے اور اس طریقے سے میں بڑے کھانے کا چمچ جوس نکال لیا تھا۔ ایک بڑے کھانے کا چمچ آپ کھیرے کا جوس ڈالیں گے ایک بڑا کھانے کا چمچ آپ اس کے اندر براؤن شوگر شامل کر یں گے ایک انڈے کی سفیدی جو ہے آپ اس کے اندر شامل کر لیں گے۔ اور اس کے اندر آپ نے ایک چٹکی یہاں پر پھٹکڑی بھی شامل کرنی ہے۔ پھٹکڑی اس میں اگر آپ شامل کر لیتی ہیں تو اس سے آپ کو بہت ہی زیادہ فائدہ حاصل ہو سکتا ہے کیونکہ یہ جو ہو تی ہے وہ بھی بہت تیزی سے

جو ہماری سکن کا آئل ہے وہ کنٹرول کر تی ہے۔ اس کو لگانے کا طریقہ کچھ یوں ہے کہ آپ نے اس کو لگا یا فیس کے اوپر آپ کو لگا ہے کہ تھوڑا ڈرائے ہو گیا تو دوبارہ آپ نے لئیر لگا دینی ہے۔ تو آپ نے اس سارے کے سارے مسکچر کو اپنے فیس کے اوپر لگا دینا ہو تا ہے۔ جب یہ ڈرائے ہو جا ئے تو سادے پانی سے اپنے چہرے کو صاف کر لینا ہو تا ہے۔ اب آپ نے ایک بہت ہی زیادہ اہم کام کر نا ہے اور وہ اہم کام یہ ہے کہ آپ نے کھیرے لینے ہیں اور ان کھیروں کو ٹکڑوں میں کٹ کر لینا ہے۔ ٹکڑوں میں کٹ کرنے کے بعد آپ نے ان کو پانی میں ڈبو دینا ہے۔ کھیروں کو آپ نے پانی میں بھگو دینا ہے اور ان کا جو پانی ہو گا اس پانی کو اس پانی میں مکس کر دینا ہے تا کہ یہ ایک مکمل مکسچر بن جا ئے ۔ مکسچر جب بن جا ئے گا تو اس کو اپنی سکن پر لگا نا ہے سکن پر لگانے سے آپ کی جو سکن ہو گی وہ بہت ہی خاص ہو جا ئے گی آپ کی سکن سے ہر قسم کے جو داغ دھبے ہوں گے وہ دور ہو جا ئیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ آپ کی کیل چھائیاں ہیں وہ بھی دور ہو تی چلی جا ئیں گی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *