دعا دو قسم کی ہو تی ہے اور یہ دعا کبھی بھی نہ کر نا

حضرت قطب الدین بختیار کا کی رحمۃ اللہ ارشاد فر ما تے ہیں۔۔ جس چیز کا علم بندے کو نہیں وہ خدا جا نتا ہے۔ بدی کا بدلہ اچھائی سے اور اچھا کا بدلہ اچھائی سے دے یہ ی شانِ اخلاق ہے۔ دنیا میں ہر شہر ِ فانی ہے تو جس سے پیار کر تا ہے وہ بھی فانی ہے، پس لا فانی سے پیار کر نا سیکھ۔ ہمیشہ

سچ کا ساتھ دو سچ تمہارا ساتھ دے گا۔ دنیا کے تمام تر لوازمات عارضی ہیں مومن کی یہ شان نہیں کہ اسی پر اکتفاء کر کے بیٹھا رہے۔ م و ت کے بھولنے والا کبھی کا میاب زندگی نہیں گزار سکتا۔ عد ل و انصاب کو برقرار رکھنا مون کی شان ہے، کیونکہ خدا بھی عد ل و انصاف کو روا رکھتا ہے۔ غریب پروری کو مقدم جا نا کیونکہ یہی بات تمام عبادات کی جڑ ہے۔ خدا اپنے فضل و کرم سے اپنے تمام تر بندوں پر اپنے پوشیدہ اشیاء آشکار کر تا ہے۔ بندے کو اپنے خدائے ذوالجلال سے اتنا قرب اور تعلق ضرور حاصل ہو نا چاہیے کہ اگر وہ کوئی بھی درخواست کر ے بارگاہِ الٰہی میں تو وہ قبول ہو جا ئے، ورنہ پھر وہ درویش کہلانے کا مستحق نہیں۔ رحمت کو نا مانگ بلکہ رحم کو مانگ۔ درویشی پردہ پوشی کا نام ہے۔ انسان کے لیے بری صحبت سے بڑھ کر زیادہ نقصان دہ چیز اور کوئی نہیں ہے۔ خدا صاف لوگوں کو پسند کر تا ہے۔ دنیا والوں کی صحبت فقیر کو پریشان کر دیتی ہے۔ جو شخص محبت کا دعویٰ کرے اور تکلیف کے وقت فر یاد کر ے وہ شخص محبت میں سچا نہیں بلکہ جھوٹا ہے۔ دعا کی دو قسمیں ہو تی ہیں بد دعا جو کہ کبھی نہیں کر نی چاہیے دعائے خیر جو کہ بزرگوں کی زبان سے نکلے۔ جس کی آنکھوں میں عشق کا سرمہ لگا ہو اس کی نظر پر عرش سے لے کر تخت تک کوئی حجاب باقی نہیں رہتا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *