حدیث نبوی ﷺ 7تباہ کردینے والے گن اہ

وہ سات تباہ کن گن اہ کونسے ہیں۔ حدیث نبوی ﷺ ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایاکہ: سات تباہ کن گن اہوں سے بچو۔ لوگوں نے پوچھا وہ کونسے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا، جادو کرنا، کسی کو ناحق مار ڈالنا، سود کھانا،

یتیم کا مال ہڑ پ کرجانا، میدان جہاد سے بھاگ جانا اور نیک عورتوں پر تہمت لگانا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم حضور اکرم ﷺ کے ساتھ تھے اتنے میں ایک دھماکے کی آواز آئی ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم جانتے ہو کہ کیا ہے؟ ہم نے عرض کیا اللہ اوراس کے رسول خوب جانتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک پتھر ہے جو جہنم میں پھینکا گیاتھا۔ ستر برس پہلے ۔ اب اس کی تہہ میں پہنچا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: انسان کا کبیرہ گن اہوں سے اجتناب کررہا ہو۔ تو پانچ نمازیں ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک درمیان کے عرصے میں ہونےوالے گن اہوں کو مٹانے کا سبب ہے۔ دو شخصوں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ مسکراتا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ایک وہ ہے جو سردرات

میں اپنے بستر اور لحاف سے اٹھ کر وضو کرتا ہے اور نماز پڑھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھتا ہے میرے بندے کو یہ تکلیف برداشت کرنے پر کس چیز نے ابھار ا ہے۔ فرشتے جواب دیتےہیں۔ تیری رحمت کا امیدوار ہوں۔ اور تیرے ع ذاب سے ڈرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے گواہ ہوجاؤ۔ اس کی امیدیں پوری کردی گئیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان گن اہوں سے بچنے کی توفیق دے ۔ اچھی بات سننا اور دوسروں تک پہنچانا بھی صدقہ جاریہ ہے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ مدینہ یا مکہ کے کسی باغ میں سے گزرے (دوسری روایت میں بغیر شک کے مدینہ کا باغ مذکور ہے) وہاں دو آدمیوں کی آواز سنی، جن کو ق بر میں ع ذاب ہورہا تھا۔ اس وقت آپ ﷺ نے فرمایا ان دونوں کو (ق بر میں) ع ذاب ہورہا ہے اور کسی بڑے گن اہ کی وجہ سے نہیں پھر فرمایا البتہ بڑا گن اہ ہے ان میں ایک تو اپنے پیشاب کی احتیاط نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغل خوری

کرتا پھرتا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے (کھجور کی ایک ہری) ٹہنی منگوائی اس کے دو ٹکڑے کرکے ہر قبر پر ایک ٹکڑا رکھ دیا لوگوں نے کہا یارسول اللہ! آپ ﷺ نے ایسا کیوں کیا؟ فرمایا شاید جب تک وہ سوکھیں نہیں ان کا ع ذاب ہلکا ہو۔حضرت نفیع بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میں تم کو بڑے بڑے گن اہ نہ بتادوں؟ تین بار یہ فرمایا ۔صحابہؓ نے کہا کیوں نہیں یارسول اللہ بتلایئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے ساتھ ش رک کرنا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا۔ آپ ﷺ تکیہ لگائے بیٹھے تھے تکیہ سے الگ ہوگئے فرمایا اور ج ھوٹ بولنا، سن رکھو بار بار یہی فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم دل میں کہنے لگے کاش آپ ﷺ چپ ہوجاتے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی مسلمان کی عزت کے بارے ناجائز زبان درازی کرنا کبیرہ گن اہوں میں سے ہے اور گال ی کے بدلے دو گال یاں دینا بھی کبیرہ گن اہوں میں سے ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *