خبردار رات کو سوتے وقت پانی پینا ز ہ ر بن جاتا ہے

پانی تو ہم سب پیتے ہیں لیکن اگر کسی شخص سے یہ پوچھا جائے کہ کس وقت پانی پینا چاہیے اور کس وقت پانی نہیں پینا چاہیے ؟ تو اس کاجواب کسی کے پا س نہیں ہے۔ جس کا جب او رجیسے چاہتا ہے پانی پی لیتا ہے اور اکثر لو گ ایسے ہیں۔ جو رات کو پانی اپنے سر کے ساتھ رکھ کرسوتے ہیں تاکہ

جس وقت آنکھ کھلے تو پانی پی لیں۔ رات کو پانی پینا کیسا ہے آپ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق بتائیں گے ۔ اور ساتھ میں ہم آپ کو یہ بھی بتائیں سائنس اس حوالےسے کیا کہتی ہے؟ اور پانی پینے کے بارے میں ہمارے پیارے آقا ﷺ کا کیا فرمان ہے؟ یہ سب کچھ بتائیں گے۔ پانی پینے کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کیا فرمان ہے اور اس بارے میں سائنس کا کیاکہنا ہے ۔ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ اور شکایت کرنے لگا اے علی ! میں بہت پریشان ہوں۔ مجھے رات میں نیند ٹھیک طرح نہیں آتی۔ اور میں جب صبح اٹھتا ہوں۔ تو میرے جسم مین شدید تکلیف ہورہی ہوتی ہے۔ تو حضر ت علی اس شخص سے فرمانے لگے کہ اگر تم رات کو سورہے ہو اور اٹھ کر پانی پیتے ہوتو ایسا کرنا چھوڑ دو۔ اگر تو تم رات کو اٹھ کر پانی پیتے ہو تو اس بات سے تمہارے جسم میں ایسی بیماری پیدا ہوسکتی ہے جس کا علاج

ناممکن ہے۔ اور تمہارے جسم میں جو درد اور تکلیف ہے اور تم رات کو ٹھیک طرح سے سو نہیں پاتے یہ اسی وجہ سے ہے اس شخص حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس فرمان پر عمل کیا۔ اور آدھی رات کے وقت اٹھ کر پانی پینا تھا۔ اس نے ایسا کرنا چھوڑ دیا۔ تو اس کی بیماری ایسے غائب ہوئی جیسا کہ تھی ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو شفاء دی ۔ اور رات کو سکون سے سونے لگا۔ جو بات حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں سالوں سال پہلے بتا دی اور آج اس بات کو سائنس کو مان رہی ہے ۔ اور کہہ رہی ہے کہ پانی کو اس کے صیحح وقت پر نہ پیا جائے تو ہمارے جسم میں خطرنا ک کی قسم کی بیماریاں ہوسکتی ہیں۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ رات کو پیاس لگتی ہے تو پانی نہ پئیں۔ اس کاجواب ڈاکٹر یوں دیتے ہیں کہ آپ اپنی دن بھر میں پانی کی کمی کو پورا کیجئے۔ یہ بھی یادرکھیں کہ ہمیں دن میں آٹھ سے دس گلاس پانی لازمی پینے چاہیں ۔ جو اس سے زیادہ پانی پیا جائے تو وہ اس

سے بھی زیادہ مفید ہے۔ ہم سب کو نبی کریم ﷺ اور ان کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سنتوں اور ان کی بتائی ہوئی باتوں پر عمل کرنا چاہیے۔ اس طرح ہم بہت سی خطرناک باتوں سے بچ سکتے ہیں۔ بالآخر آپ کو پانی پینے کے آدا ب اور سنت کے طریقے کے بارے میں بتاتے ہیں۔ حدیث نبوی ﷺ کی روشنی میں پانی پینے کے جو آداب سامنے آئیں ہیں۔ وہ یہ ہیں کہ پانی بیٹھ کر ، اجالے میں دیکھ کر، سیدھے ہاتھ میں، بسم اللہ پڑھ کر اس طرح پیا جائے کہ ہر مرتبہ گلاس کو منہ سے ہٹا کر سانس لی جائے۔ پہلی اور دوسری بات کہ ایک ایک گھونٹ پیا جائے۔اورتیسرے سانس میں جتنا چاہیں پئیں۔ حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ : اونٹ کی طرح ایک ہی گھونٹ میں نہ پیا جائے۔ بلکہ دو یا تین بار پیا کرو۔ اور جب پینے لگو تو بسم اللہ پڑھا کرو۔ اور جب پی لو تو ” الحمد اللہ ” کہا کرو۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکا رمدینہ ﷺ پینے میں تین بار سانس لیا کرتے تھے۔ اور فرماتے تھے اس طرح پینے سے زیادہ سیرابی ہوتی ہے۔ اور صحت کے لیے مفید ہو۔ خوشگوار ہے۔ حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار مدینہ ﷺ نے کھڑے ہو کر پانی پینےسے منع فرمایا ہے ۔ ان احادیث میں آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ پیارے آقا ﷺ نے پانی پینے کے کیا آداب بتلائے ہیں۔ اسی لیے ہمیں چاہیے کہ ان آدا ب کے مطابق پانی پئیں۔ اور اپنی زندگی میں جو بھی کام کریں اس میں سنت طریقہ کو اختیار کریں۔ یا در ہے کہ پیارے آقا ﷺ کی ہر ہر سنت میں اللہ تعالیٰ نے حکمت رکھی ہے ۔ا وربحثیت مسلمان ہماری یہ ذمہ داری بھی ہے کہ ہم ہر کام کو پیارے آقا ﷺ کے طریقے پر کریں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *