اللہ کی قسم ذی الحجہ کے پہلے 10دن میں اتنی برکت ہے

جو ذات خود عظیم ہو ۔ اس ذات کی قسم بھی بہت عظیم ہوگی ۔اور بہت ہی بڑی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ذی الحج کی دس راتوں کی قسم کھائی ہے۔ اور اس قسم سے پتہ چلتا ہے۔ اس قسم سے ہمیں ان دس دنوں کی اہمیت کا پتہ چل جاتا ہے کہ ماہ ذی الحج کےپہلے دس دن پہلا عشرہ اسلام

میں بہت ہی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ذی الحج کے پہلے دس دن یعنی پہلا عشرہ پورے سال سب سے زیادہ برکت والا ہوتا ہے۔ اور یہ دن سب سے زیادہ برکتوں والے ہوتےہیں۔ ان دنوں کا مقام اور مرتبہ بہت ہی زیادہ بلند ہے۔ یہ ایسے مبارک دن ہوتےہیں۔ جن کا ایک ایک لمحہ اور ایک ایک سیکنڈ انتہائی قیمتی ہوتا ہے۔ آج اسی حوالے سے آپ لوگوں کو ایک ایسا عمل بتائیں گے ۔ اور ایسا ذکر بتائیں گے کہ یہ ذکر اللہ تعالیٰ کو بہت ہی زیادہ پسند ہیں۔ خاص کر ذی الحج کےپہلے دس دنوں میں یہ کیا جانے والا ذکر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بہت ہی زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کواپنی عبادت دوسرے دنوں کے بجائے ان دس دنوں میں بہت ہی زیادہ پسند ہوتی ہے۔ آپ لوگوں نے دیکھا ہوگا کہ ہم رمضان المبارک میں بھی اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ شعبان میں بھی اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ اسلامی سال کے بارہ مہینوں میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں ۔ دن رات عباد ت کرتے ہیں۔ لیکن ذی الحج کےپہلے دس دن کی جو عبادت ہے وہ باقی دوسرے دنوں اور مہینوں سے سب سے زیادہ محبوب اور سب سے زیادہ پسندیدہ عبادت اللہ تعالیٰ ذی الحج کے پہلے دس دنوں میں ہوتی ہے ۔ اس کے ایک دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر ہوتا ہے۔ اور اس کی ایک ایک رات کا قیام لیلتہ القدر کےقیام

کے برابر ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ان دس دنوںمیں اپنا ذکر کرنے کاخصوصی طور پر تذکرہ فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا ہے کہ اور مقررہ دنوں کے اندر اللہ کےنام کا ذکر کرو۔ صحابہ کرام ، محدثین اور مفسرین کے نزدیک ان ایام سے مراد ذی الحج کا پہلا عشر ہ ہے۔ پہلے دس دن ہیں۔ ذی الحج کےپہلے نودنوں میں روزہ رکھنے کی بہت ہی زیادہ فضیلت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایا: اللہ تعالیٰ ذی الحج کے پہلے عشرے کی عبادت سے زیادہ کسی دن کی عبادت پسند نہیں۔ا ور ان ایام میں سے ہر دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر ہوتا ہے۔ پیارے آقا حضرت محمد ﷺ نے ایک ذکر بتا یا کہ ان دس دنوں میں کثرت یہ ذکر کیا کرو ۔ صحابہ کرام کو بتایا۔ کثرت سے یہ ذکر پڑھا کرو۔ وہی ذکر ، وہی عمل آج آپ لوگوں کو بتارہے ہیں۔ آپ لوگوں نے ان دس دنوں میں اللہ تعالیٰ کا یہ ذکر ضرور کرنا ہے۔ یہ عمل ضرور کرنا ہے۔ جوآپ کو بتانے جارہے ہیں۔ اس عمل میں کیا پڑھنا ہے وہ نوٹ فرمالیں۔ وہ عمل یہ ” لاالہ الا اللہ ، اللہ اکبر، الحمد اللہ ” ہے۔ یہ تین ذکر ہیں۔ ان کو کثرت سے ذی الحج کے پہلے دس دنوں میں پڑھ لیا کریں۔ انشاءاللہ! آپ کا ہر مقصد پورا ہوجائے گا۔ آپ کی ہر مراد پوری ہوجائے گی۔ اس ذکر کو آسان سے پڑھنے کا طریقہ جو ہے جو زیادہ

تر کتابوں میں آیا ہے۔ زیادہ تر مفسرین نے بتایا ہےوہ یہ ہے کہ آپ اس طرح یہ ذکر پڑھ لیں۔ ” اللہ اکبر، اللہ اکبر لا الہ اللہ واللہ اکبر، اللہ اکبر، وللہ الحمد”تکبیر ہے۔ اس میں ” لاالہ الا اللہ “یہ بھی آگیا۔ ” اللہ اکبر ” بھی آگیا۔ اور اس کے ساتھ ” الحمدا للہ ” بھی آگیا۔ اگر آپ لوگ الگ الگ پڑھنا چاہیں۔ ” لا الہ الااللہ اللہ اکبر” اور اس کے بعد ” الحمد اللہ ” کو الگ الگ بھی پڑھ سکتے ہیں۔ لیکن جو زیادہ بہتر طریقہ ہے۔ جس کے بارے میں پڑھنے کا کہاگیا ہے۔ وہ اس طرح سے پڑھیں تو زیادہ بہتر رہے گا۔ ” اللہ اکبر، اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر، اللہ اکبر، وللہ الحمد”یہ ذکر ہے اس کو تکبیر بھی کہتےہیں۔ جو عید سے پہلے بھی پڑھتے ہیں۔ اور عید کے دن بھی پڑھتے ہیں۔ اس کی بہت ہی فضیلت ہے۔ اس کی بہت ہی عظمت ہے۔
آپ نے روزانہ چلتے پھرتے ، اٹھتے بیٹھتے ” اللہ اکبر، اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر، اللہ اکبر، وللہ الحمد”کو پڑھ لیا کریں۔ جب آپ لوگ اپنے کسی کام کاتصو ر کریں گے ۔ کسی بھی حاجت کےبارے میں سوچیں گے۔ کسی بھی مقصدکے بارے میں دعا کریں گے۔ اور ساتھ ساتھ یہ ذکر کررہےہوں گے۔ یہ تکبیر پڑھ رہے ہوں گے ۔ انشاءاللہ! اللہ تعالیٰ دلوں کے رازوں کو جانتا ہے۔ جو کچھ ہم سوچ رہے ہوتے ہیں۔ جو کچھ ہم چاہ رہے ہوتے ہیں۔ اللہ پا ک اس سے واقف ہوتا ہے۔ انشاءاللہ! اللہ تعالیٰ آپ کے ہر مقصد میں کامیابی عطافرما دے گا۔ ہر حاجت کو پور افرمادےگا۔ ہر مراد کو پور افرمادےگا۔ اور اس تکیبر پڑھنے کے ساتھ ساتھ جو بھی اللہ تعالیٰ سے آپ مانگو گے اللہ تعالیٰ آپ کو عطافرماد ے گا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *