خوبانی قدرت کا عظیم تحفہ

خوبانی صحت بخش اور مفید پھل جوسبھی لوگوں کو پسند ہوتا ہے۔ خوبانی کی اہم بات اس کی گری ہے جو بادام جیسا مزا دیتی ہے۔اسی لیے کم و بیش سبھی خوبانیکھانے والے اس کی گری بھی شوق سے کھاتے ہیں ایسا کرنے سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔خوبانی کی گری سے متعلق سمجھا جاتا ہے کہ

اسے کھانا مفید اور یہ کینسر سمیت کئی بیماریوں سے بچاؤ میں مددگارثابت ہوتی ہے مگر حقیقت میں خوبانی کی گری صحت کیلئے سنگین خطرے کا باعث بن سکتی ہے ،اسے کھانے سے فوری موت بھی واقع ہو سکتی ہے کیونکہ گری میں جان لیوا زہ ر’’سائنائیڈ‘‘ پایا جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق خوبانی کی گری میں ایک مادہ “امیگدالین”پایا جاتا ہے، جو “گیلوکوسیڈسایانوجن” کیمیکل کی ایک قسم ہے۔ خوبانی کی گری چبانے سے ہائیڈروجن سائنائیڈ گیس پیدا ہوتی ہے البتہ اگر گری کو پکا لیا جائےتو ایک مخصوص درجہ حرارت پر اس کے زہریلے اثرات ختم ہو جاتے ہیں۔خوبانی کی گری کھانے سے پرہیز کیا جائے کیونکہ اس میں سائنائیڈ سمیت انتہائی زہریلے مادے پائے جاتے ہیں۔ نہار منہ سات سے پانچ دانے خوبانی کھا کے اوپر سے ایک گلاس لسی پی لیں نظام ہاضمہ کو بہتر بنا کے قبض کو دور کرتی ہے سینے میں ہونے والی جلن کو بھی کم کرتی ہے۔خوبانی کے روزانہ استعمال سے خ ون کی

روانی اور جوش خ ون کو فا ئدہ پہنچتا ہےنز لہ، زکام ، گلے کی خرا ش اورمنہ کی بد بو دور کرنے کے لیے روزانہ ۵ دانے خوبانی ہمراہ گرم پانی استعمال کرنا مفید ہوتا ہے۔ پچاس گرام خشک خوبانی سبز چائے کے ساتھ نہار منہ استعمال کریں پیٹ کے کیڑے صاف ہو جائیں گے۔خوبانی میں شامل لائکوپین دل کے لیےنہایت مضر کولیسٹرول ایل ڈی ایل کی سطح کوکم کرکے شریانوں کو صاف رکھتا ہے۔بھوک کی کمی یا معدے میں بوجھ کی صورت میں ایک پاؤں خوبانی دس گرام سونف کے ساتھ روزانہ استعمال کرنا فائدہ مند ہے۔ خ ون میں گرمائش اور پھوڑے پھنسیوں کی صورت میں سو گرم خوبانی، تیس گرام عناب تین سو ملی لیٹر پانی میں بھگو کے رات کو رکھ دیں صبح اچھی طرح مل کر چھان لیں تھوڑی سی مصری ملا کے نہار منہ استعمال کریں ۔خوبانی کا رس کانوں میں ڈالنے سے بہرہ پن ختم ہو جاتا ہے. کان میں درد ہونے کی صورت میں بھی اس ٹوٹکے کو استعمال کیا جا سکتا

ہے۔پانچ عدد خوبانی اور پانچ عدد انجیر رات کو پانی میں بھگو دیں صبح پانی کے ساتھ ہی استعمال کریں بواسیر میں فائدہ پہنچاتی ہے۔خوبانی کا استعمال جگر کی سختی کو دور کر تی ہے اورتیزابیت اور ڈکا ریں آنے سے روکتی ہے۔ وٹامن اے اور ای سمیت خوبانی میں پائے جانے والی متعدد مرکبات آنکھوں کی صحت کے لیے لازمی حیثیت رکھتے ہیں۔شب کوری یا رات کے اندھے پن میں وٹامن اے کا کردار کلیدی ہے۔ یہ اندھا پن روشنی پہچاننے والے عناصر کی کمی سے ہوتا ہے۔ وٹامن ای چکنائی میں حل ہونے والا اینٹی اوکسیڈنٹ ہے جو براہِ راست آنکھوں میں داخل ہو جاتا ہے اور انہیں ’’فری ریڈیکلز‘‘ کے نقصانات سے بچاتا ہے۔نیز خوبانی کو زرد اور نارنجی رنگ دینے والے بِیٹا کیروٹین کو جسم وٹامن اے میں بدل سکتا ہے۔ خوبانی کے دیگر کیروٹینائیڈز میں لوٹین اور زیزانتھین شامل ہیں جو آپ کی آنکھوں کے عدسے اور ریٹینا میں پائے جاتے ہیں اور اوکسیڈیٹو دباؤ کے خلاف مؤثر ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *