اللہ فرض نفل قبول نہیں کرتے

بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم بہت سے نوافل پڑھتے ہیں ۔ حتیٰ کہ تہجد گزار ہیں۔ ہم لمبے لمبے اور چوڑے وظائف پڑھتے ہیں۔ صدقہ وخیرات بھی دیتے ہیں ۔ لیکن ہمارے مسائل حل نہیں ہوتے ۔ ہماری مشکلات بڑھتی ہی جارہی ہیں۔ مشکلات کم نہیں ہوتیں۔ ہمارے جتنے غم اور الم ہیں۔ وہ بجائے کم ہونے

کے بڑھتے جارہے ہیں۔ آپ ذرا اس بات پر بھی غور کریں۔ کہ آپ کی ان تین افراد میں سے تو نہیں ہیں ۔ کہ جن کی اللہ تعالیٰ نہ نفلی صدقات اور نہ ہی کوئی چیز قبول کرتا ہے۔ نہ ہی کوئی فرض اورفرائض ان کے قبول ہوتے ہیں۔ آپ ضرو ر غور وفکر کریں۔ وہ تینوں چیزیں وہ تینوں آفات کو آپ کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ جناب پیغمبر ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ : تین ایسے لوگ ہیں ۔ ایسے شخص ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان تینوں سے کسی بھی قسم کا فرض اور نفل جو ہیں۔ چاہے فرض ہو ں۔ نوافل ہوں۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول نہیں فرماتا ۔ پہلے نمبر آگیا ہے عاق۔ والدین کا نافرمان۔ کہیں آپ والدین کی نافرمانی تو نہیں کررہے ۔ یا والدین کی بددعاؤں کی ضد میں تو نہیں ہیں ۔ ایسا تو نہیں کہ شادی ہوگئی اور آپ اپنی دلہنیا کو لے کر چلے گئے۔ اور

پیچے ناتواں والدین سسکیاں بھر بھر کر اور بھوکے رات کو سو جاتے ہیں ۔کہیں ایسا کام تو نہیں ہورہا۔ اگر ایسا کام ہے تو والدین کی نافرمانی کی ہے تو زندگی میں جا کر ان کے پاؤں پکڑ لیں۔ آپ کے والدین ہیں۔ ان کےپاؤں پکڑ لیں۔ ان سے معافی مانگیں۔ ۔ ان سے دعا ئیں لیں۔ دوسرے نمبر پر منان یعنی احسان فراموش ۔ صدقہ وخیرات احسان جتلانے والا۔ احسان فراموش۔ آپ نے کسی کو صدقہ دیا۔ خیرات دیا۔ کسی کے ساتھ تعاون کیا۔ دوسرے دن کوئی بھی بات ہوگی تو اچھا ایسے ہو؟ میرے صدقے پر پلتے ہو؟ میرے صدقے خیرات کھاتے ہو میرے خلاف بات ۔ کوئی فرض ، کوئی نفل ، چاہے فرائض ہوں۔ نوافل ہوں۔ کوئی چیز تمہارے نوافل اور فرائض کو اللہ تعالیٰ کو ضرورت نہیں ہے ۔ احسان جتلانے والا۔ تیسرے نمبر پر تقدیر کو جھٹلانے

والا۔ خیر اور شر اچھی اور بری جو تقدیر ہے۔ تقدیر کو جھٹلانے والا ، جو ہماری تقدیر میں لکھا ہوا ہے بہت سارے ایسے لوگ ہیں۔ وہ طرح طرح کی ناامید ی کی باتیں کرتے رہتے ہیں۔ اورایسے کلمات بولتے رہتےہیں۔ کہ ہماری مقدر میں یہ لکھا ہے؟ ہمارے اوپر مشکلات آنی تھیں۔ اللہ تعالیٰ کو ہمارے علاوہ اور کوئی نظر نہیں آرہا تھا کہ یہ بیماریاں ، پریشانیاِ ں یہ غم و الم ہمارے اوپر ہی ٹوٹنے تھے۔ یہ ساری باتیں ناامیدی کی اور تقدیر کو جھٹلانے والی بات ہے۔ آپ غور وفکر کریں۔ آپ ان تینوں میں سے تو نہیں ہیں۔ والدین کا نافرمان، احسان نافراموش،نیکی کرکے ، صدقہ وخیرات دے کر احسان کرکے جھٹلانے والا یا تقدیر کو جھٹلانے والا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان تینوں افراد میں سے ہمیں اور ہماری نسلوں کو بھی محفوظ رکھے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں والدین کا فرمانبردار اور ان کی خدمت کرنے والا بنا دے ۔ جب ہمارے والدین دنیا سے پردہ کریں۔ تو ہمیں دعائیں دیتے ہوئے اور خوشی کی حالت میں جائیں ۔ یہ یہ ہماری دنیا اور آخر ت کی کامیابی کا راز ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو عمل کرنے توفیق عطافرمائے ۔ آمین۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *