”ذی الحج کا مہینہ شروع ہونے والا ہے ، چاند دیکھتے ہی یہ عمل کرو اور کروڑ پتی ہو جائو“

ذی الحج کا مہینہ شروع ہونے جارہا ہے ۔ آپ کو ذی الحج کے حوالے سے ایک خاص وظیفہ بتائیں گے ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ : بے شک اللہ تعالیٰ بہت ت وبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ ت وبہ ایک بہت ہی عظیم عمل ہے۔ اور اس کے بے شمار فضائل ہیں۔ ت وبہ کرنے والے کو فلاح نصیب ہوتی ہے۔

چنا نچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ : اے مسلمانوں ! تم سب اللہ کی طرف ت وبہ کرو۔ اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ۔ ت وبہ کرنے والے کی بڑائیاں نیکیوں میں بدل جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ : مگر جو ت وبہ کرے اورایمان لائے ااور اچھا کام کرے تو ایسوں کی بڑائیوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا۔ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ ت وبہ کرنے والے سے خدا بہت خوش ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ : بے شک اللہ اپنے مومن بندے کی ت وبہ سے اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے۔ جو کسی پتھریلی زمین پرپڑاؤ کرے ۔ اور اسکے ساتھ اس کی سواری بھی ہو۔ جس پر اس کا کھانے پینے کا سامان لدا ہوا ہو۔ پھر وہ سر رکھ کر سوجائے ۔ جب بیدار ہوتو اس کی سواری جاچکی ہوتو وہ اسے تلا ش کرے ۔ یہاں تک کہ گرمی اور شدت پیاس یا

جس وجہ سے اللہ چاہے پریشان ہو کر کہے کہ میں اس کی جگہ لوٹ جاتا ہوں ۔ جہاں سورہاتھا۔ پھر سوجاتاہوں یہاں تک کہ مرجاؤں۔ پھر وہ اپنی کلائی پر سر رکھ کر مرنے کےلیے سوجائے۔ پھر جب بیدار ہو تواس کے پاس اس کی سواری موجود ہے اس پر اس کا توشہ بھی موجود ہو۔ تواللہ پاک مومن بندے کی ت وبہ پر اس شخص کے اپنی سواری کے لوٹنے پر خوش ہونے سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے۔ چونکہ ت وبہ نہایت عظیم عبادت اور قرب خداوندی کا اعلیٰ ذریعہ ہے۔ اس لیے نفس وشیطان انسان سے اپنی دشمنی ثابت کرتے ہوئے اسے ت وبہ سے دور رکھتے ہیں۔ اور بہت سے حیلے بہانوں

اور وسوسوں سے اسے ت وبہ سے محروم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اور یوں لوگ ت وبہ میں تاخیرکرتے رہتے ہیں۔ آئیے ت وبہ میں تاخیر کی بجائے اللہ تعالیٰ سے اپنے گن اہوں کی معافی مانگیں ۔ اور سچے دل سے اس سے ت وبہ کریں۔ وظیفہ کچھ یوں ہے کہ آپ نے چھ دن وظیفہ کرنا ہے۔ آپ نے شوال کے دن چھ روزے رکھنے ہیں۔ اور اس کے بعد ساتھ ہی آپ نے وظیفہ کرنا ہے۔ اگر آپ روزہ نہیں رکھ سکتا تو پھر بھی آپ یہ وظیفہ کر سکتے ہیں ۔ کسی بھی نماز کے بعدآپ نے اول وآخر گیارہ گیارہ مرتبہ دوردپاک پڑھنے کے بعد تین سوتیرہ مرتبہ “یافتاح ” کو پڑھنا ہے۔ اس وظیفے کی برکت سے آپ کی تما م دلی حاجات پوری ہوں گی۔ پس آپ اس وظیفے کو سچے دل سے کریں ۔ اور اس پر یقین رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے اپنی حاجات طلب کریں۔ انشاءاللہ! آپ کی تمام حاجات ضرور پوری ہوں گی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *