”حضرت علی ؓ کی کم عمری کی بہادری کا خوبصورت و ایمان آفروز واقعہ“

پہلے زمانے میں لڑائی کے لئے حملہ کے تل-وا-ر اور دفاع کے لئے ڈھال استعمال ہوتی تھی، جن-گج-و لوگوں کے ایک ہاتھ میں ڈھال ہوتی تھی اور ایک ہاتھ میں تل-وا-ر ہوتی تھی، خندق کی جن-گ میں مرحب جب خندق پار کر کے آیا تو اس نے کہا ہے کوئی میرے مقابلے میں؟ سارے بیٹھ گئے کوئی

نہیں کھڑا ہوا، حضرت علی کھڑے ہوئے، یارسول اللہ انا لہ میں جاؤں گا، میرے نبی جیسی شخصیت علیؓ جیسی شخصیت کو کہہ رہے ہیں تجھے پتہ ہے یہ عمرو ہے یعنی تو اس کی ٹکر کانہیں ہے۔ بڑے بڑے نہیں کھڑے ہورہے تو بچہ ہے 23 سال کا۔ اس نے کہا کون ہے۔ میرے مقابلے میں پھر سب عمر جیسے شہسوار زبیر جیسے طلحہ جیسے علیؓ کھڑے ہوگئے، یارسول اللہ انا لہ میں ہوں آپ نے فرمایا بیٹھ جا، یہ عمرو ہے پھر اس نے کہا کدھر ہے تمہاری جنت جس میں دعوے کرتے ہو شہ-ید ہوں گے تو جائیں گے تم میں کوئی جنت کا شوقین نہیں ہے؟ پھرکوئی نہیں کھڑا ہوا، علیؓ کھڑے ہوگئے یارسول اللہ انا لہْ میں ہوں پھر حضور نے فرمایا: من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ بیٹھ جا یہ عمر ہے فرمایا: یارسول اللہ اب نہیں بیٹھوں گا وان کان عمروا تو آپ نے فرمایا: اچھا چل جا پھر آپ نے دعا کی اب ان کی ایک ہاتھ میں تل-وا-ر ہے اور ایک ہاتھ میں ڈھال ہے، شعر پڑھ رہے تھے کہ میں ہوں

جس کا نام اس کی ماں نے حیدر رکھا ہے، حیدر شیر کو کہتے ہیں اس لئے آپ کو حیدر کرار کہتے ہیں۔ کرار کہتے ہیں پلٹ پلٹ کر حملہ کرنے والا، توآپ کا لقب تھا وہ شیر جو پلٹ پلٹ کر حملہ کرے اور سامنے کسی کو نہ چھوڑے۔ جب آپ پہنچے تو آپ بچے سے اور وہ سو لڑ-ائ-ی-اں لڑ چکا تھا کہنے لگا کون ہو فرمایا: میں علی ہوں، چہرہ تو چھپایا ہوا تھا کہنے لگا علی بن عبدالمطلب؟ آپ کے دادے کا نام لیا۔ کہا عبدالمطلب کا بیٹا علی؟ آپ نے فرمایا نہیں بن ابی طالب میں ابو طالب کا بیٹا علی ہوں۔ کہا بھتیجے تو کہاں سے آگیا، جا جا واپس تجھے م-ار-نا مجھے اچھا ہی نہیں لگتا، یعنی وہ ایسے یقین پر ہے کہ بچہ کو تو میں ایسے ہی ختم کردوں گا دوسرا قریبی رشتہ نکل آیا کہا نہیں نہیں محمدﷺ سے کہو کوئی اور آئے، کہا میں تجھے

مارنا نہیں چاہتا۔ علی ؓ نے فرمایا پر میں تو تجھے مارنا چاہتا ہوں، اس کو غصہ چڑھ گیا اس نے آ کے وار کیا تو حضرت علی ؓ نے ڈھال پر روکا۔ ڈھال کا تصور کیا ہے اس پر یہ سارا واقعہ ہے کہ دش-من کے وار کو ڈھال پر روکاجاتا تھا۔ تو پھر اس میں جس کا داؤ پہلے لگ جاتا وہ پار ہوجاتا تو اس نے دو تین و-ار کئے، حضرت علی ؓ نے ڈھال پر روکے پھر اس نے ایک زور سے و-ار کیا تو اس نے ڈھال کو توڑ دیا اور کندھے پر آکے تل-و-ار لگی اور کندھا زخمی ہوگیا، اب حیدر کرار بنا پلٹ کر حم-لہ کرنے والا زخ-می شیر زیادہ غصے میں آتا ہے، حضرت علی ؓ نے پلٹ کر جب اس پر وار کیا تو اس نے ڈھال آگے کی تو علی کی تل-و-ار نے ڈھال کو توڑا اور کندھے پر لگی اس کی بھی کندھے پر لگ کر رک گئی، طاقت ختم ہوگئی لیکن کرار کی تل-و-ار ڈھال کو توڑتی ہوئی کندھے کو توڑتے ہوئے پورے جسم کو چی-ر کر دوحصوں میں تقسیم کردیا تو اس کی ل-اش پر پاؤں رکھ کر کہا یہ ہے پتھر کاپجاری اور میں ہو رب محمدﷺ کا پجاری

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *