قربت کے بعد مرد اور عورت کو کیا کر نا چاہیے

قربت کے بعد حمل کی خواہش مند عورت کو کم از کم آدھا گھنٹہ تک ایسے انداز میں لیٹے رہنا چاہیے جس سے معدہ ممنوعہ کی خلیوں کو رحم میں پہنچنے میں مدد ملتی ہو۔ اگر وہ سیدھی لیٹی ہے تو قربت سے قبل ہی اسے اپنے نیچے ایک تکیہ رکھ لینا ہے اور تولیدی خلیوں کو رحم کی طرف بڑھنے

میں آسانی رہتی ہے قربت کے بعد مرد کو ٹھنڈے پانی سے عضو کو عضو کی صفائی بالکل نہیں کر نی چاہیے غذا مثلاً گرم دودھ انڈے کی زردی اور کوئی پروٹین سے بھرپور نہ کھانی چاہیے اکثر لوگ جاننے کے خواہش مند ہوتے ہیں کہ ایک جسمانی ملاپ کے بعد دوسرے جسمانی ملاپ میں کتنا وقفہ ہو نا چاہیے جسمانی ملاپ میں وقفے کے لیے کوئی باقاعدہ اصول مقرر نہیں ہے اس کا انحصار ہر شخص کی اپنی صحت اور خواہش پر ہے۔ اگر قربت کے بعد تھکن محسوس ہو تو جسمانی ملاپ لمبے وقفے کے بعد کر نا چاہیے جسمانی ملاپ کے بعد فرحت اور سکون محسوس ہو گا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جسمانی ملاپ میں زیادتی نہیں ہو رہی اکثر ایسا ہوتا ہے کہ میاں بیوی میں سے کسی ایک کو زیادہ خواہش ہوتی ہے اور دوسرے کو کم خواہش ہوتی

ہے ایسا بھی ممکن ہے کہ کسی عورت ہفتے میں ایک مرتبہ ہی صرف تسلی رہے مگر کوئی عورت ایسی بھی ہو سکتی ہے جن کے لیے ہفتے میں ایک بار جسمانی ملاپ نہ کافی ہو۔ اور وہ زیادہ مرتبہ ملاپ کی خواہش مند ہو یہی مرد کا بھی ہو سکتا ہے ۔ ازدواجی زندگی میں میاں بیوی کے درمیان مکمل جسمانی ہم آہنگی تبھی ممکن ہے جب دونوں برابر وقفے کے بعد جسمانی ملاپ کی خواہش مند ہوں۔ لیکن اگر ایسا نہ ہو تو اپنے دل میں دوسرے کے بارے میں بد گمانی پیدا نہیں کر نی چاہیے شادی کے ابتدائی دنوں میاں بیوی عموماً کثرت سے قربت کر تے ہیں بعض لوگوں میں شادی کو چند سال گزر

جانے کے باوجود یہ سلسلہ جاری رہتا ہے لیکن بعض جوڑوں میں جسمانی ملاپ کی رغبت کافی کم ہو جاتی ہے شادی شدہ لوگوں کو جسمانی ملاپ کے سلسلے میں دوسرے لوگوں کی مثال اپنے سامنے نہیں رکھنی چاہیے اگر دوسرے لوگ کثر ت سے قربت کرتے ہیں۔ تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کی نقل کی جا ئے ایسا کر نا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ قربت میں کمی پیشی ایک ا نفرادی معاملہ ہے۔ جسمانی ملاپ میں وقفے کے سلسلہ میں دو باتیں ہمیشہ یاد رکھنی چاہییں۔ دماغ میں ہونی چاہییں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ قربت اس وقت کرنی چاہیے جب جسمانی ملاپ کی فطری خواہش موجود ہو اور دوسری بات یہ ہے کہ جسمانی ملاپ میں ہمیشہ اعتدال سے کام لینا چاہیے۔ کیونکہ جسمانی ملا پ کی کثرت سے اس فعل کا لطف ظاہر ہونے لگتا ہے اور فریقین اکتانے لگتے ہیں جسمانی خواہش ایک خاص انداز سے مرد پر اثر انداز ہوتی ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *