انسان نیک ہے یانہیں ؟ چیک کرنے کاآسان طریقہ

صالحین میں سے ایک شخص آتا ہے اور آکر کسی صالح انسان کا پوچھتا ہے۔ بتاؤ میں نیک ہوں یا نہیں ؟ یہ طے کرنا تو بہت مشکل ہے کہا یہ تواللہ ہی جانتا ہے۔ کہا نہیں بتاؤ۔ اللہ نے آپ کو بڑا علم عطا کیا ہے۔ اسرار پر انہوں نے کہا ایک سوال کا جواب دیدے دو ۔ میں بتا دیتا ہوں کہ تم نیک ہو۔سوال کیا ہے

اور جواب کیا ہے؟ بس اتنا بتاؤ کیا تم اپنے والدین کے لیے دعائیں کرتے ہو۔ دعائیں تو کرتاہوں۔ کہا پھر تم نیک انسان ہو۔ اب یہ آپ نے کیسے کہہ دیا کہ میں دعا کرتاہوں۔ تو میں نیک انسان ہوں۔ صیحح مسلم کی روایت ہے کہ انسان جب فوت ہوجاتا ہے تو اس کے سارے اعمال منقطع ہوجاتےہیں ۔ تین باقی رہتے ہیں۔ صدقہ جاریہ ، یاوہ علم جس سے لوگ نفع حاصل کر رہے ہیں۔ جو علم چھوڑ کرگیاہو۔ تیسری چیزوہ بچہ جو سالم ہوتا ہے ۔ جو دعا کرتا ہے اپنے والدین کےلیے۔ آج میرے اورآپ کے لیے بھی علم ہے ۔اکیلے بیٹھ کرضرور سوچیں ۔ ہم میں سے کتنے ہیں جو کہ اپنے والدین کے لیے روزانہ دعائیں کرتے ہیں۔ کہ آج وفائیں ختم ہوگئی ہیں۔ عمل صالح”سے مراد ہر وہ عمل ہے جو تزکیۂ اخلاق کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے ۔ اس کی تمام اساسات

عقل و فطرت میں ثابت ہیں اور خدا کی شریعت اسی عمل کی طرف انسان کی رہنمائی کے لیے نازل ہوئی ہے ۔” خدا کا کوئی کام بے مقصد اور بغیر کسی حکمت کے نہیں ہوتا۔ وہ ‘الحکیم’ ہے۔ اس کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے اور حکمت بھی اس درجے اور اس شان کی جو درجہ اور شان خود اس ذات بے ہمتا کو حاصل ہے۔ کسی دانش مند انسان کے بارے میں بھی یہ خیال نہیں کیا جا سکتا کہ وہ عبث اور بے حکمت کام کرنے والا ہے، پس اللہ رب العزت کے بارے میں یہ خیال کیونکر دل میں لایا جا سکتا ہے۔اس نے یہ کائنات بے مقصد نہیں بنائی، بلکہ اسے ایک خاص حکمت اور خاص نظام پر استوار کیا ہے۔ چنانچہ انسان کے وہ اعمال جو خدا کی حکمت اور اس کے نظام کے مطابق ہوں، وہی اعمال صالحہ ہیں۔ نیک اعمال انسان کی زندگی میں

بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ انسان درحقیقت ایک اخلاقی وجود ہے۔ یہ دراصل، وہ صالح رویہ ہے، جو ہم دوسروں سے اپنے لیے چاہتے اور دوسرے ہم سے اپنے لیے چاہتے ہیں۔اور سب سے بڑھ کریہ اعمال اللہ تعالیٰ کی خاطر کر یں یہی صالح رویہ ماحول اور معاشرے کے حوالے سے ہمارا نیک عمل ہے۔ چنانچہ اگر انسان اپنی زندگی میں نیک عمل اختیار کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں اصلاً، اس کا اپنا اخلاقی وجود نشو و نما پاتا ہے۔ یہ صرف انسان کی اخلاقی نشو و نما ہی کا معاملہ نہیں، اس کے روحانی پہلو کو دیکھیے یا سماجی اور معاشرتی پہلو کو، ہر اعتبار سے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی میں صالح اعمال ہی اختیار کرے۔ یہی اعمال اس کی روح کو بالیدگی عطا کرتے ہیں اور انھی کی بنا پر وہ حیوانی سطح سے بلند ہو کر ملکوتی صفات کا حامل ہوتا ہے۔ یہی اسے سماجی اور معاشرتی پہلو سے ترقی دے کر ایک متمدن اور مہذب انسان بناتے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *