رونگٹے کھڑے کردینے والی حدیث

آج آ پ کو ایک ایسی حدیث بتانے والے ہیں یقین کریں اگر آپ دل کے کانوں سے سنیں گے کہ تو آپ کے آج رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے۔ وہ کیا ہے ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ : جب میری امت میں پندرہ قسم کے گناہ پیدا ہوجائیں تو پھر عذاب اور بلائیں آئیں گی۔

پوچھا گیا : وہ کونسے گن اہ ہیں۔ تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :پہلا: جب مال غنیمت اور بیت المال کے مال کو اپنی دولت سمجھاجائے گا یعنی قومی خزانہ جو ملک ، رعیت اور مستحق لوگوں کےلیے ہوتا ہے ۔ اس کو امراء اور اہل اقتدار اپنی جاگیر سمجھ کر اپنی ذات سے اور اپنے عیش وعشرت کے لیے استعمال کرنے لگیں گے۔ دوسرا: اور جب امانت کو مال غنیمت کی طرح ہضم کیا جانے لگے گا۔ تیسرا: جب زکوٰۃ کو تاوان شمار کیا جانے لگے گا۔ یعنی زکوٰۃ کی ادائیگی خوش دلی کی بجائے بکراہت کی جائے (تنگ دلی سے ادا کی جائے)۔ ایک حدیث میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے کہ جو قوم بھی زکوٰۃ کو روک لیتی ہے تو حق تعالیٰ شانہ اس کو قحط میں مبتلا فرماتے ہیں۔ آج قحط کی وبا ہم لوگوں پر کچھ ایسی مسلط ہو گئی ہے ہ اس کی حد نہیں۔ ہزاروں تدبیریں اس کو ختم کرنے کے واسطے کی جا رہی ہیں مگر کوئی بھی کارگر ثابت نہیں ہو رہی۔ چوتھا: آدمی اپنی بیوی کا فرمانبردار بن جائے۔پانچواں :اپنی ماں سے بدسلوکی اور نافرمانی کرنے لگے جائے۔چھٹا:اپنے دوست سے حسنِ سلوک اور نیکی کرے۔ساتواں :اپنے

باپ سے بے وفائی اور نفرت برتے۔ یعنی دوستوں سے بے تکلفی اور والدین سے تکلف برتے جن باتوں سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہم کو چودہ سو سال پہلے متنبہ کر دیا آج وہ حرف بحرف ہمارے سامنے آ رہی ہیں اور ہم ان کو تجربے بھی کر رہے ہیں۔ لیکن پھر بھی ہم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم کی قدر نہیں کرتے۔ آج بھی اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ دنیا کو مصائب سے نجات مل جائے تو پھر معلمِ حقیقی اور حکیمِ حاذق ﷺ کے بتلائے ہوئے اصولوں پر عمل کیجیے تو پھر دیکھیے کہ کیسا راحت و آرام انسانیت کو ملتا ہے۔آٹھواں :مساجد میں آوازیں بلند ہونے لگیں یعنی کھلم کھلا شور و غوغا ہونے لگے۔ ایک روایت میں آپ ﷺ کا ارشاد اس طرح نقل کیا گیا ہے کہ عنقریب میری امت پر ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ جب لوگ مسجدوں میں بیٹھ کر دنیا کی باتیں کرنے لگیں گے۔ سو تم ان کے پاس مت بیٹھنا اللہ تعالیٰ کو ایسے لوگوں (نمازیوں) کی کوئی ضرورت نہیں۔ ایک روایت میں یوں بھی آیا ہے کہ مسجدوں کو بڑا مزیّن کیا جائے گا اور وہ ہدایت سے خالی ہوں گے۔نواں : سب سے کمینہ، رذیل اور فاسق آدمی قوم کا قائد اور نمائندہ کہلائے۔ یعنی قوم کا سردار وہ مقرر ہو گا جو سب سے زیادہ فاسق کینہ ور اور بدکار ہو۔ نہ کہ متقی اور پرہیز گار شخص۔ دسواں : آدمی کی

عزت محض اس کے ظلم اور شر سے بچنے کے لئے کی جانے لگے۔گیارہواں : ش راب نوشی عام ہو جائے گی۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ دین کی باتوں میں سب سے پہلے برتن کی طرح جس چیز کو الٹ دیا جائے گا وہ ش راب ہے۔ صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ یہ کیسے ہو گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی نام رکھ کر اس کو حلال کریں گے۔بارہواں : مرد ریشم پہننے لگ جائیں۔ تیر ہواں : گانے والی عورتیں رکھی جانے لگیں۔ چودہواں : مزامیر یعنی گانے بجانے کا سامان عام ہو جائے۔ پندرہواں : امت کا پچھلا حصہ پہلے لوگوں کو لطن طعن سے یاد کرنے لگے یعنی ان کو برا بھلا کہا جانے لگے۔ آج ہر شخص اپنے آپ کو عقل مند، فقیہ اور مجتہد سمجھتا ہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ائمہ مجتہدین اور بزرگانِ دین کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنا رہا ہے) تو اس وقت سرخ اندھ یری، زمین میں دھنسنے اور شکلوں کے مسخ (بگڑنے) کا انتظار کرو۔ایک روایت میں کچھ زائد الفاظ آئے ہیں کہ سرخ آندھی، زل زلہ، زمین میں دھنسنے، شکلیں بگڑ جانے، آسمان سے پتھر برسنے اور طرح طرح کے لگاتار عذابوں کے آنے کا اس طرح انتظار کرو جیسے کسی ہار کا دھاگہ ٹوٹ جانے سے موتیوں کا تانتا بندھ جاتا ہے۔ جس قسم کی پریشانیاں حوادث اور مصائب آج ہم پر نازل ہو رہے ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی امت کو چودہ سو سال پہلے آگاہ کر دیا ہے اور صاف صاف بتلا دیا ہے کہ خدا کی نافرمانی سے دنیا میں مصائب آتے ہیں اور اس کی فرمانبرداری سے کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *