کو ن کہتا ہے ہر نیا بغیر آپریشن کے ٹھیک نہیں ہوتی

ڈاکٹر صاحب میں ہرنیا کا مریض ہوں۔ اس کا علاج بتادیں؟ ہرنیا کے لیے بہترین علاج لمبا رکوع کرو۔ لمبا سجدہ کرو۔ اور لمبا قیا م کرو۔ نبی پاک ﷺ فرض نماز کے علاوہ آپ کی جتنی نمازیں ہوتی تھیں۔ا س میں قیام ، رکوع اور سجدہ برابر ہوتاتھا۔ برابر ہوتا تھا۔ لمباقیام کرو۔ لمبا رکوع کرو۔ لمبا سجدہ کرو۔

یہ بہترین علاج ہے ۔ یہ ہرنیا کا بہترین علاج ہے۔ ایک بھائی نے سوال پوچھا کسی کو اخلاق کیسے متاثر کیا جائے؟ اپنے اخلاق اس لیے اچھا نہیں کرنا کہ لو گ متاثرہوں۔ اپنے اخلاق اس لیے اچھے کرنے ہیں۔ کہ ہمیں اخلاق اچھا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ہمیں اپنے اخلاق کو اچھا کیوں کرنا ہے؟ کیونکہ ہمارے رب کو اچھے اعلیٰ اخلاق والے، اچھے اخلاق والے ، بہترین اخلاق والے لو گ پسند ہیں۔ ہم نے اپنے اخلاق اس لیے اچھے نہیں کرنے کہ دوسرے متاثر ہوں۔ اگر ہم ایسا کریں گے۔ تو یہ ریا کاری ہے۔ ہم تو دوسروں کو متاثر کرنے کے لیے کررہے ہیں۔ ہم نےاپنے اخلاق اس لیے اچھے کرنے ہیں کہ جب قیامت والے دن جب ہماری اللہ تعالیٰ سے ملاقات ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمارے چہروں کو دیکھ کر مسکرائے۔ اور ہم اپنے رب کے چہرے کو دیکھ کرمسکرائیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قیامت والے دن جہنم سے بچا کر نیک لوگوں میں شامل کر لے۔ ہم نے اپنے اخلاق اس لیے اچھے کرنے ہیں۔ ہرنیا

اس وقت ہوتا ہے جب جسم کے اندرونی حصے میں کسی کمزور مقام پر کوئی عضلات یا بافت کی دیوا رمیں رخنہ پڑتا ہے۔ اس سے جلد پر ایک ابھار سا نظر آتا ہے۔ عموماً یہ پیٹ پر ہوتا ہے، لیکن بعض دیگر مقامات جیسا کہ ران کے اوپری حصے اور ناف پر بھی ہو سکتا ہے۔ارنڈ کا تیل: یہ تیل تاریخی طور پر معدے کے متنوع مسائل کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اس سے سوزش کم ہوتی ہے اور ہاضمہ بہتر ہوتا ہے۔ آپ اس تیل کو معدے پر لگا کر ہرنیا کی علامات سے راحت پا سکتے ہیں۔ایلوویرا کا رس: یہ سوزش کو کم کرنے اور سکون پہنچانے کا قدرتی ذریعہ ہے۔ ایلوویرا ان افراد کو تجویز کیا جاتا ہے جنہیں ہرنیا کے باعث درد کی شکایت ہو۔ رس کی صورت میں ایلوویرا کو ہر صبح استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بہتر نتائج کے لیے ہر

کھانے سے پہلے اسے لیا جا سکتا ہے، اس سے ہرنیا ہونے کا امکان بھی گھٹ جاتا ہے۔برف: ہرنیا ہونے کی صورت میں پیٹ کے اردگرد سوزش، سرخی اور درد ہو سکتا ہے۔ اگرچہ برف لگانے کو جی نہیں کرتا لیکن متاثرہ مقام پر ایسا کرنے سے سوزش کم ہوتی ہے اور درد سے آرام ملتی ہے۔ ادرک: جہاں تک پیٹ کے درد اور سوزش سے آرام کا معاملہ ہے ادرک جتنی مفید اشیا کم ہی ہیں۔ آپ اس مقصد کے لیے ادرک کا جوس استعمال کر سکتے ہیں یا پھر کچی ادرک کھا سکتے ہیں۔ اس سے معدے کی صحت بہتر ہوتی ہے اور درد سے راحت ملتی ہے۔ یہ معدے اور غذائی نالی میں معدی رطوبتوں کو جمع ہونے سے محفوظ رکھتی ہے جو کہ ہرنیا کی وجہ ہو سکتی ہیں۔ملٹھی: ہرنیا معدے کے غلاف اور خوراک کی نالی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ملٹھی جسم کے ان حصوں کے علاج کے طور پر بہت عرصے سے استعمال کی جا رہی ہے۔ ملٹھی کی چائے نقصان کا شکار ہونے والی بافتوں کی مرمت میں مدد ملتی ہے اور درد سے راحت ملتی ہے۔ اس کے ساتھ سوزش بھی کم ہوتی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.