پاکستان میں تیار ہونیوالا چکن گوشت حرام یا حلال کیا ہم کھا سکتے ہیں

ہمارے ملک میں ہمارے شہر میں جہاں سے ہم چکن لیتے ہیں وہ کہاں سے آتا ہے ان کی بریڈ کیا ہے جس طرح اس بات کی اجازت نہیں کہ حرام کو حلال کیا جائے اسی طرح اس بات کی بھی اجازت نہیں کہ حلال کو حرام کردیا جائے ۔اس کا خلاصہ آ پ کے سامنے رکھ دیتے ہیں تاکہ آپ کیلئے آسانی ہوجائے ۔

اس سن بات یہ ہوئی تھی کہ پاکستان میں جو چکن کو فیڈز کھلائی جاتی ہیں وہ خنزیر کے گوشت سے بنائی جاتی ہیں۔دسمبر 2005میں مرغیوں کی فیڈ درآمد کی گئی تو اس میں خنزیر کاگوشت شامل تھا ۔ 50کنٹینر کو کسٹم حکام نے پکڑ لیا اس کا بات کا نوٹس چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے لیا ۔ 5ستمبر 2007میں لارجر بینچ تشکیل دیا گیا تھا اس میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے علاوہ جسٹس رانا بھگوان داس اور جسٹس میاں شاکر اللہ جان شامل تھے ۔ اس فیڈ کو بین کیا گیا جن کمپنیوں نے یہ فیڈ درآمد کی تھی ان کو کروڑوں کے حساب سے جرمانے کیے گئے ۔ یہ قانون بنادیا گیا کہ آئندہ کوئی پولٹری فیڈ درآمد نہیں کرسکے گا۔ لہذا اب ساری فیڈ پاکستان میں تیار ہوتی ہے ۔ اس پر مزید سوا ل یہ ہوا کہ جان سکتے ہیں کہ اب یہ فیڈ جو ہم تیار کرتے ہیں وہ کن کن چیزوں سے ہوکر بنتی ہے اسلام آباد میں ایسی فیڈ بنانے والی کمپنیاں انہوں نے جو معلومات دیں اس وقت جو پولٹری فیڈ

تیار کیا جاتی ہے ۔ اس کیلئے گندم ،مکئی باجرہ جوار سے بنائے جاتے ہیں ۔سویا آئل اور پروٹینز وغیرہ اس میں تیس فیصد ڈالے جاتے ہیں۔ دو سے تین فیصد مچھلی یا چکن کے پر وغیرہ ڈالے جاتے ہیں۔ اب بھی کچھ جگہ ایسی ہیں جہاں پر مردہ جانور اور گندی چیزیں بھی فیڈ وغیرہ تیار کرتے ہیں اس بات کی تحقیق کرلیں جہاں سے آپ چکن لیتے وہ کہاں سے تیار ہوتا ہے ۔آپ جہاں سے خریدنا چاہتے ہیں وہاں ان سے تحقیق کریں کہ یہ چکن کہاں سے لایا گیا ہے یا اس کی فیڈ کیسی ہوئی ہے ۔لوگ غلط کام کیوں کرتے ہیں کیونکہ ہم ان کو موقع دیتے ہیں ہم پوچھتے ہی نہیں کہ تم ہمیں جو چکن کھلا رہے ہو وہ کہاں سے آتا ہے اس میں ہمیں خود کوشش کرنے کی ضرورت ہے آپ جائیں تحقیق کریں اگر کوئی بھی ایسی چیز سامنے آتی ہے ایسا نہیں کہ ہمارے ملک میں کوئی نوٹس لینے والا نہیں ہے ۔اس لیے آئندہ جب بھی آپ چکن کھانے کیلئے لیں تو دکاندار سے یہ ضرور پوچھیں کہ اس کی فیڈ کیسی ہوئی ہے اس کی فیڈ حلال بھی تھی کہ نہیں یا پھر یہ ہماری صحت کیلئے اچھی بھی ہے کہ نہیں آپ نے یہ باتیں ضروری دیکھنی چاہئیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *