یہ عمل پہلی بار ہی آپ کو حیران کردے گا

نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: جس بندے نے فجر کی نماز پڑھی۔ اور پھر وہ سورج طلوع ہونے تک مسجد میں بیٹھا رہا۔ پھر اس نے دو رکعتیں نماز ادا کیں۔ اللہ تعالیٰ اس پر جہنم کی آگ ح رام فرمادیں گے۔ تو قیامت کے دن نور بھی ملے ان نوافل کی وجہ سے ۔ اور جہنم کی آگ بھی ح رام ہوجائےگی۔

نفل ادا کرنے والے بندے کو اللہ تعالیٰ جہنم میں نہیں ڈالیں گے۔ ربیع بن کعف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی پاک ﷺ کے ساتھ تھا۔ تو اللہ کےنبی پاک ﷺنے فرمایا کہ : جو بندہ نفل ادا کرنے والا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن میرے رفاقت عطافرمائےگا۔ آپ ذرا سوچیں کہ یہ کتنا بڑا انعام ہے۔ ان نوافل کے ادا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کی رفاقت عطافرمائیں۔ ایک بچہ اگر کسی مجمعے میں اپنے باپ سے بچھڑجائے۔ تو کتنا پریشان ہوتا ہے؟ تو دنیا کے اندر بچہ باپ سے بچھڑ کر اتنا پریشان نہیں ہوگا۔ جتنا ایک امتی قیامت کے دن نبی پاک ﷺ سے بچھڑ کر پریشان ہوگا۔ اور اس دن نبی کریمﷺ کی رفاقت نصیب ہوجائے تو یہ بہت بڑی سعاد ت کی بات ہے۔ اورجو بندہ نوافل ادا کرتا ہے۔ اس کو اللہ تعالیٰ کا قرب نصیب ہوجاتا ہے۔ حدیث مبار ک میں ہے میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا ایسا قرب حاصل کرلیتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں۔ یعنی نفل ادا کرنے والا بندہ اس سے اللہ تعالیٰ محبت فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے نوافل ادا کرنے کے بعد۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں اس کی آنکھ بن

جاتا ہوں۔ جس سے وہ دیکھتا ہے۔ ہاتھ بن جاتا ہوں۔جس سے وہ پکڑتا ہے۔ میں زبان بن جاتا ہوں۔ جس سے وہ بولتا ہے۔ یہ حدیث مبارکہ بڑے عجیب مضمون کی حامل ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں۔ جس سے پکڑتا ہے۔ اس کی آنکھ بن جاتا ہوں۔ جس سے وہ دیکھتا ہے۔ محدثین نے اس کے معنی لکھیں ہیں۔ کہ یہ جو جسم کے اعضا ء ہیں۔ یہ انسان کے معاون ہوتے ہیں۔ دیکھیں ہم جو بھی کام کرناچاہتے ہیں۔ تو ہاتھ ، پاؤں، آنکھ یہ سب ہمارے معاون ہیں۔ ان کے ذریعے سے ہم وہ کام کرتے ہیں ۔جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں۔ ہاتھ بن جاتا ہوں۔ اس کا ایک معنی تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے کاموںمیں اس کے معاون بن جاتے ہیں۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ انسان کے اعضاء اور اس کے محافظ بھی ہوتے ہیں ۔ اگر کوئی آدمی آپ کی طرف پتھر پھینکتا ہے۔ توآپ اپنے ہاتھوں سے کیچ کرلیتے ہیں۔ روک لیتےہیں۔ آپ کو کسی جگہ خطرہ ہو توآپ وہاں سے بچنے کےلیے بھاگتے ہیں۔ تواعضاء بندے کے محافظ بھی ہوتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ بندے کے اعضاء کا ذکر فرما رہے ہیں۔ تو محدثین نے کہا اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کے محافظ بن جاتے ہیں۔ اور اس بندے کی ہر برائی سے حفاظت فرماتے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *