سات آسمانوں سے بھی بڑا اسم اعظم

آج کا جوعمل ہے وہ ایک ایسا خاص عمل ہے۔ جس کے حوالے سے نبی کریم ﷺ کی حدیث مبارکہ موجود ہے۔ یہ حضرت آدمؑ کا خاص عمل ہے۔ جس کو انہوں نے کیا۔ اللہ نےاپنی قسم کھاکر فرمایا: آپ کی اولاد میں جو بھی ا س کو کرے گا۔ میں اس کی ہردعا کو قبول فرماؤں گا۔ خواہ وہ کسی حوالے سےہو۔

ا س کے غم وفکر کو دور کردوں گا۔ اس کے لیے روزی کوکافی کردوں گا۔ اس کےدل سے فکر کو دورکرکے اس کو غنی کردوں گا۔ اس کی طرف اسباب رزق متوجہ کردوں گا۔ دنیا ا سکےسامنے ذلیل ہوکر آئےگی۔ اگرچہ دنیا اس کو نہ چاہے تو بھی اللہ تعالیٰ دنیا کو اس کےلیے مسخر کردے گی۔ بہت ہی خوبصورت عمل ہے۔ اس کے حوالےسے آپ نے یہ کرنا ہے۔ پہلے تو آپ نے اللہ کی ذات پر کامل یقین رکھنا ہے۔ ایسا کامل یقین کہ اللہ کو ہی خالق ، قادر مانتے ہوئے آپ نے اللہ کی ذات پر ایسا یقین رکھنا ہے۔ جب آپ اللہ سے دعا کریں گے۔ تواللہ کےحکم سے صبح آپ کو دعا کریں۔ انشاءاللہ! شام تک جو بھی آپ کی حاجت ہوگی۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں گے۔ ابو عبداللہ بن جعفر کو جوکہ برکی کے لقب سے مشہور ہیں ۔ کہتے ہیں میں ایک بیابنا میں ایک بدو خاتون کو دیکھا ۔ جس کی کھیتی کڑاکے کی سردی اور زور دار آندھی اور موسلا دھا ر بارش کےسبب تباہ ہوچکی تھی۔ لوگ اس کے اردگرد

جمع تھے۔ کہ اس فصل تباہ ہونے پر اسے دلاسہ دیں۔ اسے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائے اور کہنے لگی “اے پروردگار! پسماندگان کی عمدہ دیکھ بھال کے لیے تجھی سے امیدیں وابستہ کی جاتی ہیں۔ جو کچھ تباہ وبرباد ہوگیا ہے۔ اس کی تلافی تیرے ہی ہاتھ ہے۔ اس لیے کہ تو اپنی شان نرالی کےمطابق ہمارے ساتھ معاملہ فرما۔ کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ ہماری روزی کا بندوبست تیرے ہی ذمہ ہے۔ ہماری آرزوئیں ،تمنائیں تجھی سے ہی وابستہ ہیں۔ ابو عبداللہ بن جعفر میں ابھی اسی خاتون کے پاس کھڑا تھا کہ ایک آدمی وہاں پہنچا کہ ہمیں اس کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ کہ یہ کون ہے ؟ اور کہاں سے آیا ہے؟ اور مقصد کیا ہے؟ جب اسے عورت کے عقیدے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق کا پتہ چلا ۔ اور پانچ سو دینا رنکالے ۔ اور اس عورت کی خدمت پیش کرکے اپنی راہ چلتا بنا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے جو آدمی بھی اللہ تعالیٰ پر کامل اعتما دکرے گا۔ تقویٰ اختیار کرے گا۔ کبھی بھی نعمت خداوندی سے محروم نہیں رہے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنے راستے سے روزی پہنچائیں گے۔ جس سے وہ گمان بھی نہیں کرسکتا۔ جیسا کہ اس دیہاتی خاتون کے ساتھ

واقعہ پیش آیا۔ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ایسی جگہ سے رزق عطا فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ ارشادفرماتا ہے کہ : جو اللہ سے ڈرتا ہے۔ اس کے لیے مشکل سے چھٹکارے کی شکل اللہ تعالیٰ پیدا فرماتےہیں۔ اور اس کےلیے ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے اس کا گمان بھی نہ ہو۔ جو عمل ہے وہ بہت ہی آسان ساعمل ہے سلیمان بن وریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: حضرت آدم ؑ نے زمین پر آنے کے بعدبیت اللہ کا طواف کیا۔ پھردروازے کے سامنے دو رکعت نماز نفل پڑھی۔ پھر ملتزم پر تشریف لائے۔ اور پھر یہ دعا پڑھی ۔ وہ دعا یہ ” اللھم انک تعلم سریرتی وعلانیتی فاقبل معذرتی وتعلم مافی نفسی فاغفرلی ذنوبی وتعلم حاجتی فاعطنی سولی اللھم انی اسئلک ایمانا یباشر قلبی ویقینا صادقا حتی اعلم انہ لا یصیبنی الا ماکتبت لی والرضا بما قضیت علی ” ہے۔ جیسے ہی حضرت آدم ؑ نے اس دعا کو مانگا دورکعت نفل پڑھنے کے بعد۔ تو اللہ پا ک نے حضرت آدم ؑ کے پاس وحی نازل فرمائی ۔ تم نے ایسی دعا کی ہے جو قبول ہوگئی ہے۔ جو تمہاری اولاد میں جو بھی یہ دعا کرے گا۔ اس کی دعا کو قبول کروں گا۔ ا س کے غم وفکر کودورکردوں گا۔ اس کی روزی کا کافی کردوں گا۔ اسکے دل سے فقر کودور کردوں گا ۔ اس کو غنی کردوں گا۔ اس کی طر ف اسباب رزق متوجہ کردوں گا۔ اس کی طرف دنیا ذلیل ہوکر آئے گی۔ اگرچہ وہ دنیا کو نہ بھی چاہے۔ نبی کریم ﷺ سے ثابت شدہ عمل ہے۔ آپ نے اسی طرح کرنا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.