حضور نے ایک صحابی کو فرمایا یہ پڑھا کرو لاحول ولاقوۃ الا باللہ

سیدنا ابوموسیٰ عبداللہ بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو آپ نے فرمایا: اے عبداللہ بن قیس ! کیا میں تمہیں جنت کے خزانے میں سے ایک خزانے کے بارے میں آگا ہ نہ کروں؟ میں نے کہا : کیوں نہیں اے اللہ کے رسول ! (ضرور بتلائیے) آپ نے فرمایا :

لاحول ولا قوۃ اِلا باللّٰہ کہو۔ سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا :کیا میں تجھے جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے کی خبر نہ دوں؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ! آپ ﷺ نے فرمایا وہ : لاحول ولا قوۃ اِلا باللّٰہ ہے ۔سیدنا حازم بن حرملۃ اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کے پاس سے گزرا تو آپ نے مجھ سے فرمایا : اے حازم ! لاحول ولا قوۃ اِلا باللّٰہ کا ذکر کثرت سے کیا کرو، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ہے ۔مذکورہ بالا احادیث میں لاحول ولا قوۃ اِلا باللّٰہ کو جنت کا خزانہ قرار دیا گیا ہے کیونکہ یہ نہایت نفیس

اور بیش قیمت معانی و مفہوم کا حامل ہے نیز ان کلمات میں اللہ تعالیٰ کی برتری کا اقرار و اظہار اور آدمی کی بے چارگی و بے بسی کا ثبوت بھی ہے کہ اگر وہ کسی گناہ سے اجتناب اور کسی خیر و بھلائی کے کام کو سر انجام دیتا ہے تو محض توفیقِ الٰہی سےہے۔ مزید یہ کہ انہیں کثرت سے پڑھنے کی خوب ترغیب دی گئی ہے ۔جو شخص لا حول ولا قوۃ الا باللہ پڑھے گا تو یہ اس کے لیے 99 بیماریوں کی دوا ہے. جس میں سب سے چھوٹی غم و رنج ہے اس حدیث کو امام طبرانی اور امام حاکم ، امام بیہقی، امام اسحاق نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے ، اگرچہ اس کی سند میں کلام ہے، لیکن یہ حدیث فضائل کے باب سےہے اور اس کے متعدد شواہد اس کی تقویت کا ذریعہ ہیں؛ لہذا اس حدیث پر عمل کرنا درست ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.