دو چیزیں دیکھتے ہی اپنی بیٹی کی شادی کردو

دو سگی بہنوں نے اپنی اولاد کا رشتہ آپَس میں طے کیا ہوا تھا ، لڑکی کی نظر کمزور ہوگئی جس کی وجہ سے وہ چشمہ لگانے لگی۔ کچھ عرصے بعد دونوں بہنوں کے درمیان اِختلافات نے سَر اُٹھایا، بات یہاں تک پہنچی کہ لڑکے کی ماں کہنے لگی: میں اپنے صحیح سلامت بیٹے کی شادی تمہاری اندھی بیٹی

سے نہیں کرسکتی۔ یہ سُن کر اس کی بہن کا دل ٹوٹ گیا کہ عیب نکالنے والی کوئی اور نہیں اس کی سگی بہن تھی، بہرحال طَعنہ دینے والی رشتہ توڑ کر جاچکی تھی۔ دوسری طرف جب وہ گھر پہنچی تو اسے خیال آیا کہ پانی کے فالتو پائپ نیچے صحن میں رکھے ہوئے ہیں انہیں چھت پر منتقل کر دیتی ہوں، اس نے اپنے بیٹے کو بھی اس کام میں شامل کرلیا۔ اچانک لوہے کا پائپ اس کے ہاتھ سے چُھوٹا اور سیدھا بیٹے کی آنکھ پر جالگا اوراس کی آنکھ باہَر نکل پڑی، ماں کے دِل پر قِیامت گزر گئی۔اور اس کے کانوں میں اپنی بہن کو کہے گئے الفاظ گونجنے لگے کہ میں اپنے صحیح سلامت بیٹے کی شادی تمہاری اندھی لڑکی سے نہیں کرسکتی۔ قارئین! نِکاح کے مقدَّس رشے کی بَدولت صرف دولہا دُلہن ہی ایک دوسرے سے وابستہ نہیں ہوتے بلکہ دونوں کے خاندان بھی آپس میں جُڑ جاتے ہیں۔ چنانچہ شادی کے لئے رشتہ دیکھنا، پَرَکھنا پھر اس رشتے کو منظور یا نامنظور کرنا بہت اہم فیصلہ ہوتا ہے

کیونکہ اس کے اَثْرات کئی زندگیوں پر پڑتے ہیں۔رشتے کا معیار: اسلام نے اس حوالے سے بھی ہماری راہنمائی کی ہے چنانچہ رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے لڑکی کے رشتے کے لئے بنیادی معیار بیان کرتے ہوئے فرمایا:کسی عورت سے نکاحکرنے کے لئے چار چيزوں کو مدِّ نظر رکھا جاتا ہے:پہلااس کا مال، دوسراحَسَب نَسَب، تیسرا حُسن و جَمال اورچوتھا دِين۔ پھر فرمایا: تمہارا ہاتھ خاک آلود ہو۔ تم دِین دار عورت کے حُصول کی کوشش کرو۔یعنی عام طورپر لوگ عورت کے مال، جمال اور خاندان پر نظر رکھتے ہیں ان ہی چیزوں کو دیکھ کر نکاح کرتے ہیں، مگر تم عورت کی شرافت و دینداری تمام چیزوں سے پہلے دیکھو کہ مال و جمال فانی (یعنی ختم ہوجانے والی) چیزیں ہیں (اور) دین لازوال دولت! مال ایک جھٹکے میں، جمال ایک بیماری میں جاتا رہتا ہے۔بیٹی کی شادی کہاں کروں؟ تابِعی بزرگ حضرتِ سیِّدُنا حَسَن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کی: میری

ایک ہی بیٹی ہے جس سے میں بہت محبت کرتاہوں، اس کے کئی رشتے آئے ہیں، آپ مجھے کس سے شادی طے کرنے کا مشورہ دیتے ہیں؟ ارشاد فرمایا: اس کی ایسے شخص سے شادی کرو جو خوفِ خدا والا ہو، کیونکہ اگر ایسا شخص تمہاری بیٹی سے محبت کرے گا تو اسے عزت دے گا، اور اگر نفرت بھی کرے گا تو (خوفِ خدا کی وجہ سے) ظلم نہیں کرے گا۔ موجودہ زمانے میں اکثر والدین اپنی اولاد کے لئے اچھے رشتوں کی تلاش میں پریشان رہتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ رشتے موجود نہیں کیونکہ کنواروں کی تعداد لاکھوں لاکھ ہے، لیکن رشتہ ڈُھونڈنے والوں نے کچھ ایسے خوابدیکھے ہوتے ہیں جن کی تعبیر انہیں نہیں مل پاتی۔ اس لئے اگر صِرف مالی حیثیت، عزت، شہرت، حسن و جمال اور اسٹیٹس ہی کو فوکس کرنے کے بجائے حسنِ اخلاق، حسنِ سیرت، رَہن سہن کے سلیقے اور عادات و اَطور کو بھی پیشِ نظر رکھا جائے تو شادی بیاہ میں رُکاوٹیں کم ہوسکتی ہیں، پھر یہ خوبیاں گھرآباد رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ لڑکے کے لئے تلاشِ رشتہ کا کام عُموماً اس کی والدہ، بہنیں اور دیگر رشتہ دار خواتین انجام دیتی ہیں، ایک دَور تھا کہ بڑی عُمر کی عورتیں لڑکی کی صورت کے ساتھ ساتھ سیرت جیسے اُٹھنا بیٹھنا، بولنا چالنا، کھانا پکانا، گھرداری اور تعلیم و تربیت وغیرہ کے معاملات بڑی حکمت سے چیک کرلیتی تھیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.