عفو درگزر کی عظیم داستان

دشمن سے انتقام لینا فطرِ انسانی کا خاصا ہے لیکن حضوراکرم ﷺ نہ صرف یہ کہ دشمنوں سے انتقام کے قائل نہیں تھے بلکہ ہر موقع پر آپ ﷺ نے اپنے بدترین دشمنوں حسن سلوک برتا اور ان کے ساتھ ہرممکن مہربانی سے پیش آئے آپ ﷺ نے فرمایا میرے رب مجھے حکم دیا ہے کہ جو کوئی مجھ پر ظلم کرے

میں اس کو قدرت انتقام کے باوجود معاف کردوں جو مجھ سے قطع کرے میں اس کو ملاؤں جو مجھے محروم رکھے میں اسے عطا کروں غضب اور خوشنودی دونوں حالتوں میں حق گوئی کو شیوہ بناؤ حضوراکرم ﷺ کی ساری زندگی اس کم اثر رہی آپ ﷺ ہمیشہ دشمنوں کے حق میں دعا کرتے رہتے تھے یہ تک کے آیت نازل ہوئی کہ آپ ان کیلئے استغفار کریں یا نہ کریں برابر ہے پھر بھی آپ ﷺ نے کسی کے حق میں بددعا نہیں کی حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ بارگاہ نبوی میں درخواست پیش کی گئی مشرکوں پر بددعا اور لعنت کیجئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں لعنت کرنے والے کی حیثیت سے مبعوس نہیں ہوا بلکہ رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں غزوہ اُحد میں حضور اکرم ﷺ کے اگلے چار دندان مبارک شہید ہوئے سر مبارک او رچہرہ مبارک پر زخم آئے یہ دیکھ کر صحابہ کرام ؓ نے رنج اور اضطراب کی حالت میں گزارش کی کہ یا رسول اللہ ﷺ کاش آپ ان دشمنان دین پر بددعا کرتے آپ نے فرمایا میں لعنت اور بددعا کیلئے نہیں بھیجا گیا بلکہ لوگوں کو راہِ حق کی طرف بلانے کے واسطے بھیجا گیا ہوں اس کے باوجود جب قریش کے رویہ کوئی تبدیلی نہ آئی اور اس کے مظالم ایزا رسانی کا سلسلہ حد سے بڑھ گیا کہ حضور ان ظالموں کے حق میں بددعا کیجئے مگر حضوراقدسﷺ نے قریش کے حق میں یہ دعا الٰہی میری قوم کو بخش دے کہ یہ لوگ بے خبر ہیں جنگ اُحد آپ کے رخسار مبارک میں خد کے دو حلقے پیوسط ہوگئے یہ دیکھ حضرت عمر فاروق ؓ نے التماس کی یا رسول اللہ ﷺ دشمنوں کے حق بددعا کیجئے اس موقع پر حضو ر اکرم ﷺ نے ان کے حق میں یہ دعا کی الٰہی

میری قوم کو بخش دے یہ لوگ ناواقف ہیں ۔ حضور اکرم ﷺ نے بہت ایزائیں جھیلیں لیکن سخت ترین دن وہ تھا جب آپ ﷺ تبلیغ اسلام کیلئے تائف گئے وہاں دعوت اسلام کے جواب میں لوگ سخت بداخلاقی سے پیش آئے بازاری لفنگوں اور اوباشوں کو آپکے پیچھے لگا دیا گیا ۔یہ گنڈے بدمعاش آپ پر ٹوٹ پڑے اور ذات اقدس پر بے پناہ سنگ باری شروع کردی آپ ﷺ جدھر کا رُخ کرتے یہ غول آپ کا تعقب کرکے پتھراؤ کرتا اور گالیاں بکتا ۔حضرت زید ؓ اپنے جسم کو آپ کیلئے ڈھال بنا رکھا تھا مگر جب چاروں طرف سے پتھر برسے تو وہ کہاں تک آپ ﷺ کو محفوظ کر سکتے تھے اتنی سنگ باری ہوئی کہ جسم مبارک لہو لہان ہوگیا اور نعلین مبار ک میں خون بھر گیا جسدِ اطہر کا کوئی حصہ ایسا نہ تھا جو مجروح نہ ہوا ہو اور اس سے خون نہ رس رہا ہو آخر آپ ﷺ نے بڑی مشکل سے ایک باغ میں انگور کی بیلوں میں پناہ لی اور اوباشوں سے پیچھا چھڑایا حضرت زید ؓ نے آپ ﷺ کے جسم اطہر کا خون پونچھا نعلین مبارک پر اتنا خون جم گیا تھا کہ آپ ﷺ وضو کرتے وقت بمشکل اپنے پیر سے نعلین نکال سکے حضور اکرم ﷺ نے فرمایا یہ میرے لیے سخت ترین دن تھا میں باغ سے نکل کرغمزدہ آرہا تھا کہ اچانک بادل کے ایک ٹکڑے نے میرے اوپر سایہ کردیا میں نے جب نظر اُٹھا کر دیکھا تو جبرائیل ؑ نے کہا جو کچھ آپ کے ساتھ ہوا ہے حق تعالیٰ نے اسے دیکھا اور آپ ﷺ کی مرضی ہو تو طائف کے دونوں پہاڑوں کو باہم ملا کر یہاں کی ساری آبادی کو تہس نہس کردیا جائیگا ۔ میں ان کی تباہی وبربادی نہیں چاہتا بلکہ مجھے خدا کے فضل سے اُمید ہے کہ حق تعالیٰ انہی میں سے ایسے

لوگ پیدا کرے گا جو خدائے واحد کی عبادت کریں اور اس کیساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے ۔ 11 سال بعد یہی اہل طائف تھے جو حضور ﷺ کی عداوت سے دستبردار ہوکر آپ کے قدموں میں گر پڑے حضور اکرم ﷺ کی حجرت کے بعد مکہ میں سخت قحت پڑا نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ قریش چمڑا اور مردار کھانے لگے ابو سفیان کو یہ معلوم تھا کہ حضور اکرم ﷺ کی دعا قبول ہوتی ہے وہ مدینہ پہنچے اور آپ ﷺ سے ملتجی ہوئے کہ محمد آپ کی قوم قحط سے ہلاک ہورہی ہے آپ ﷺ ان کیلئے دعا کیجئے اس کے جواب میں حضور ﷺ نے یہ نہیں کہا کہ میں ان لوگوں کے حق میں کیوں دعا کروں کہ جنہوں میں مجھے اور میرے ساتھیوں کو تکلیفیں پہنچائیں اور ہمیں اپنے گھروں سے نکالا لیکن حضور اقدس ﷺ نے فی الفور دعا کیلئے ہاتھ اُٹھائے اور حضور کی یہ قبول ہوئی اناج کی بندش شہر مکہ میں کوئی چیز پیداہ نہیں ہوئی اناج یمامہ سے آتا تھا یمامہ کے حاکم حضرت سمامہ ؓ مسلمان ہوگئے اور انہوں نے مکہ معزمہ کی غلے کی برامد بند کردی اس بندش سے قریش میں قحرام مچ گیا انہوں نے سخت اضطراب اور بدحواسی کے عالم میں حضورﷺ سے مدینہ میں رجوع کیا رحمت عالم ﷺ نے سمامہ ؓ کے نام پیغام بھیجا کہ اناج کی بندش اُٹھا لو چنانچہ اناج مکہ پہنچنے لگا حالانکہ یہ اہل مکہ وہی تھے جنہوں نے مسلسل تین سال تک آپ کے خاندان والوں کا ایسا بائیکاٹ کیا تھا کہ اناج کا ایک دانا تک نہیں پہنچنے دیتے تھے۔ہاشمی بچے بھوک سے تڑپتے اوربلبلا اُٹھتے تھے لیکن ان ظالموں کے پتھر دل کسی طرح نہ پسیجتے تھے بلکہ یہ قریہ اور پکار سن کر مدد کرنے کی بجائے ہنستے اور

خوش ہوتے تھے حضورﷺ نے انکی سب باتیں بھول انکی اناج کی بندش ختم کرائی ۔حضورﷺ کا یہی جذبہ ترہم میدان جنگ میں بھی رہتا تھا بدر کی میدان جنگ لڑائی شروع ہونے سے پہلے مشرکین کی فوج کے آدمی اس ہوض پر پانی پینے آئے جو اسلامی لشکر کے قبضے میں تھا ۔ مسلمانوں کی فوج نے یہ حوض اپنی ضروریات کیلئے تیار کیا تھا ۔ صحابہ کرام ؓ مشرکین کو پانی پینے روکا تو حضورﷺ نے پانی پینے سے منع نہ کرو پینے دو تو یہ وقت تھا کہ وہ ظالموں سے ایک ایک ظالم وقت کا بدلہ لے سکتے تھے ابو سفیان بہت پریشان تھا ۔سعد بن عبادہ ؓ نے ابو سفیان سے کہا ابو سفیان آج کا دن قتل اور خون فریزی کا دن ہے آج کے روز خدائے شدید الاقاب قریش کو ذلیل کرے گا یہ سن کر سفیان حواس باختہ ہوگئے حضورﷺ نظر آئے تو کہا یا رسول اللہ ﷺ کیا اپنی ہی قو م قریش کے قتل وغارت کا حکم دے دیا ہے حضورنے فرمایا ہرگز نہیں ابو سفیان نے سعد تو یہی کہہ رہے ہیں رحمت عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا سعد غلط کہتے ہیں آج کا دن لطف اور رحمت کا دن ہے ابو سفیان نے کہا میں آپ ﷺ خدائے برتر کی قسم اور قریش کی قرابت کا واسطہ دیتا ہوں کہ قریش کو معاف کردیجئے اور کوئی انتقام نہ لیجئے حضور نے فرمایا ایسا ہی ہوگا اور حکم جاری کیا کہ سعد سے جو انصار کا جھنڈا لیے فوج کی کمان کررہے تھے جھنڈا لے لیا جائے کیونکہ وہ جذبات سے مغلوب اور انتقامی کارروائی کرسکتے ہیں حضرت سعد بن عبادہ ؓ قبیلہ خزرج کے رئیس اعظم تھے اور قریش مکہ نے قبول اسلام کی پاداش میں انہیں بُری طرح سے اپنے جوہروستم کا تختہ مشق بنایا ہوا تھا اور فطری طور

پر وہ اس جوہروستم کا بدلہ لینا چاہتے تھے لیکن حضورﷺ نے اعلان کیا کہ یہ یوم انتقال نہیں یوم رحمت ہے اور احتیاطاً ان سے یہ پرچم لے لیا جس فوج کی وہ کمان کررہے تھے اس کی کمان دوسرے کے سپرد کردی یہ اعلان ہوا کہ جو ابو سفیان کے مکان میں پناہ لے گا یا اپنے گھر کا دروازہ بند رکھے گا یا ہتھیار جسم سے علیحدہ کردے گا اس کو امان ہے لیکن پھر بھی لوگ سمجھ رہے تھے کہ مکہ میں خون کی ندیاں بہا دے گی اور ہمیں ایزا رسانیوں اور جفاکاریوں کی عبرت ناک سزا ملے گی لیکن حضور ایسا مشفکانہ برتاؤ کیا کہ باز انصار صحابی ؓ سرگوشیاں کرنے لگے لیکن حضور ﷺ پر وطن کی محبت اور اپنی قوم کی اُلفت غالب آگئی اور آپ ہم مدینہ والوں کو چھوڑ کر مکہ ہی میں اپنے لوگوں کے سامنے رہا کریں گے اس پر حضورﷺ نے انصار کو جمع کیا اور فرمایا تم نے رسول اللہ ﷺ اپنی قوم کی اُلفت اور وطن کی محبت غالب آگئی حقیقت یہ ہے کہ میں خدا کا بندہ اور اس کا رسول ﷺ ہوں میں نے اللہ تعالیٰ کی خاطر تمہاری طرف حجرت کی تھی اور مطمئن رہو کہ میرا مرنا جینا تمہارے ساتھ ہے ۔انصار عرض ِ پیرا ہوئے یا رسول اللہ ﷺ ہم نے جو کچھ کہا ہے خدا ورسول کی محبت میں کہا ہے آپ ﷺ نے فرمایا خدا تمہارا عزر قبول کرتا ہے حضور ﷺ کی جگہ کوئی اور فاتح مکہ یوں فاتحانہ داخل ہوتا تو اس کو تکبر وغرور کی کوئی انتہاء نہ ہوتی تو وہ بڑی شان وشوکت اور جا ہ جلال کا مظاہرہ کرتا لیکن اقلیمی نبوت کے تاجدار نے اس موقع انکسار کا ایسا مظاہرہ کیا کہ دنیا اس کی نظیر نہیں مل سکتی شیخ عبدالحد محدث ؒ اس داخلے کی کیفیت یوں لکھتے ہیں کہ فوجی

دستے کو تین سمتوں میں معین کرنے کے بعد آپ نے غسل کیا پھر اسلحہ زیب وتن کرکے خاص اصحاب کیساتھ اونٹوں پر سوار ہوئے آپ کو اپنی ہجرت پر وہ نازک وقت یاد آیا جب اسی مکہ میں دشمنوں نے آپ کے قتل کا فیصلہ کرکے رات بھر آپ ﷺ کے مکان کا محاصرہ کررکھا تھا اور آپ ﷺ بے کسی کی حالت میں غارِ ثور میں جا چھپے تھے۔فتح مکہ کے دوسرے رحمت دوعالم ﷺ کو ابو لہب کے بیٹوں کا خیال آیا وہ خوف کے مارے روپوش ہوگئے تھےحضورﷺ نے انہیں تلاش کروایا اور ان سے بہت مہربانی کا سلوک کیا یہ سلوک دیکھ وہ بھی فوراً مسلمان ہوگئے ۔مسجد حرام کے دربار میں وہ لوگ آپ کے سامنے موجود تھے جنہوں آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کے خاندان کو ایک درے میں محسور کرکے آب ودانہ تک بند کردیا تھا اور اناج کا ایک دانہ تک نہیں پہنچنے دیتے تھے ۔اس دربار میں وہ لوگ بھی جو آپ ﷺ پر ایمان لانے والوں کو تپتی ہوئی ریت میں ڈال کر گھسیٹا کرتے تھے ۔ انہی میں وہ مغرور لوگ بھی موجود تھے جنہوں نے قسم کھا رکھی تھی کہ ہم اسلام صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے ۔ایسے لوگ بھی تھے جو خون رسالت سے اپنی پیاس بجھانا چاہتے تھے ۔ادھر دس ہزار تلواریں شہنشہائے عرب وعجم ایک اشارے کی منتظر تھیں کہ حکم ہو تو ہم ان مجرموں کے سر قلم کردیں آپ ﷺ نے سب کی طرف دیکھا اور پیغمبرانہ جلال کیساتھ دریافت کیا کہ تمہیں کچھ معلوم ہو کہ اب میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کرنے والا ہوں یہ سن کر اہل مکہ پر سناٹا چھا گیا کہ ابھی حضور اقدسﷺ قتل عام کا حکم دیں گے لیکن حضور اکرم ﷺ نے فور اً فرمایا میں آج میں تمہارے ساتھ وہی سلوک کروں گا جو یوسف ؑ نے اپنے بھائیوں کیساتھ کیا تھا ۔میں بھی یوسف ؑ کی طرح کہ آج تم پر کوئی الزام اور مواخزہ نہیں ہے ۔ خدائے برتر تمہارے گناہ معاف کرے اور وہی ارحم الرٰحمین ہے ۔ ہماری بھی دعاہے کہ اللہ تعالیٰ اہل اسلام کے گناہ معاف فرمائے۔شکریہ

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *