زیر ناف بال کب اور کہاں تک صاف کرنے چاہئیں

اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا صفائی نصف ایمان ہے اور اللہ کا دین دینِ فطرت ہے ہمیں دین کے مسائل اپنے علماء اور اپنے بزرگوں سے پوچھتے وقت شرمانا نہیں چاہئیے کیوں کہ دین کے مسائل پوچھنا اور ان پر عمل کرنا بھی ایک عبادت ہے بخدا اسلام میں جس جس کا حکم ہے اور جو چیز منع کی گئی ہے

اس میں ہم انسانوں کا ہی بھلا ہے آج کے دور میں اتنی تحقیق کے بعد لوگ اس بات تک آپہنچے کہ انسان کے جسم میں جہاں پسینہ جمع ہوجاتا ہے وہاں جو بال اگتے ہیں اس کی وجہ سے سامنے والے انسان کو بدبو محسوس ہوتی ہے تبھی۔ بالغ ہونے کے بعد یہ بال ختم کرنا انسان کو جسمانی اور روحانی بیماریوں سے اللہ کی پناہ میں رکھتا ہے اللہ کے محبوب ﷺ نے چودہ سوسال پہلے ہی فرمادیا تھا کہ بغل کے بال اور زیر ناف بال کوشش کر کے ہر ہفتے کاٹے جائیں اگرکوئی انسان مصروف ہونے کی وجہ سے نہیں کاٹ پاتا تو پندرہ دن کے اندر ہی کاٹ لیں چالیس دن بعد یہ بال انسان کے جسم کو اللہ کی رحمت سےدور کرتے ہیں اور انسان کے جسم میں بدبو اور نجاست پیدا کرتے ہیں کیسے ہوسکتا ہے کوئی مومن مسلمان اپنے آپ کو مومن تو کہلوائے لیکن صفائی کا خیال نہ رکھے جبکہ یہ واضح ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے صفائی مومن کے لئے آدھا ایمان ہے زیر ناف سے مراد یعنی شرمگاہ سے مراد جو بال اگتے ہیں انہی بالوں کو کاٹنے کا حکم ہے کیونکہ یہ بال کاٹنا فطرت میں شامل ہے اللہ ہم سب مسلمانوں کو دین پر چلنے اور اسے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔شکریہ

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.