نبی کریم ﷺنےفرمایا: جب عورت حاملہ ہوتی ہے تو اسے اللہ تعالیٰ

عورت کا مقام: یونانی کہتے ہیں کہ عورت سانپ سے زیادہ خطرنا ک ہے۔ سقراط کا کہنا تھا کہ عورت سے زیادہ اور کوئی چیز دنیا میں فتنہ و فساد کی نہیں ۔ بونا کا قول ہے کہ عورت اس بچھو کی مانند ہے جو ڈنگ مارنے پر تلا رہتا ہےیوحنا کا قول ہے۔ کہ عورت شر کی بیٹی ہے۔ اور امن وسلامتی کی

دشمن ہے۔ رومن کیتھولک فرقہ کی تعلیمات کی رو سے عورت کلام مقدس کو چھو نہیں سکتی اور عورت کو گرجا گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ۔ عیسائیوں کی سب سے بڑی حکومت رومتہ الکبری ٰ میں عورتوں کی حالت لونڈیوں سے بدتر تھی ۔ ان سے جانوروں کی طرح کا م لیا جاتا تھا۔ لیکن محسن انسانیت، رحمت اللعالمین حضرت محمد مصطفی ٰ ﷺ کے عورت کے بارے میں ارشادات ملاحظہ فرمائیے: قیامت کے دن سب سے پہلے میں جنت کا دروزاہ کھولوں گا تو دیکھوں گا کہ ایک عورت مجھ سے پہلے اندر جانا چاہتی ہے۔ تو میں اس سے پوچھوں گا کہ تو کون ہے؟ وہ کہے گی میں ایک

بیوہ عورت ہوں، میرے چند یتیم بچے ہیں۔ جس عورت نے اپنے رب کی اطاعت کی اور شوہر کا حق ادا کیا اور شوہر کی خوبیاں بیان کرتی ہے۔ اور اس کے جان ومال میں خیانت نہیں کرتی تو جنت میں ایسی عورت اور شہید کا ایک درجہ ہوگا۔ جو عورت ذی مرتبہ اور خوبصورت ہونے کے باوجود اپنے یتیم بچوں کی تربیت وپرورش کی خاطر نکاح نہ کرے وہ عورت قیامت کے دن میرے قریب مثل ان دو انگلیوں کے برابر ہے۔ جس عورت نے نکاح کیا ، فرائض ادا کیے اور گن اہوں سے پرہیز کیا اس کو نفلی عبادات کاثواب خدمت شوہر، پرورش اولاد اور امور خانہ داری سے ملے گا۔ جب عورت حاملہ ہوتی ہے۔ تو اسے اللہ تعالیٰ کے راستے میں روزہ رکھ کر جہاد کرنے اور رات کو عبادت کرنے والی (عورت) کے برابر ثواب ملتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.