وہ کام جو فجر کے وقت ہر انسان کو لازمی کرنے چاہیے

۔ آکسیجن کا لیول سب سے زیادہ ہوتا ہے اس وقت۔ دماغ فریش ہو جا تا ہے۔ پھر اٹھنے کے بعد اللہ نے حکم دیا کہ سب سے پہلے دانتوں کو صاف کرو ۔ مسجد جانے سے پہلے۔ دیکھو انگریز صبح اٹھ کر دانت صاف کرتا ہے۔ وہ اس لیے کہ صاف کرتا ہے کہ جراثیم مر جائیں ۔ جب میں مسکراؤں تو مسکراتے

ہوئے اچھا محسوس ہو۔ بتیسی جب دیکھنے میں نظر آ ئے تو لوگ کہیں ۔ ویل ڈن بہت اچھے۔ کہاں سے بنوائے ۔ کہاں سے لگوائے۔ کہ ڈاکٹر جو دانت دیکھتے ہیں نا اتنے میلے ، اتنے گندے کہ اگر کسی کے صاف نظر آ ئیں تو ڈاکٹر کو وہم ہوتا ہے کہ اس نے آرڈر پر بنوا کے فٹ کر وائے ہیں ۔ گٹکے ، ڈینٹسٹ کے پاس تو زیادہ تر گٹگے کے کیسس آ تے ہیں نا۔ تو انگر یز صبح صبح اٹھ اٹھ کر دانت صاف کرتا ہے جراثیم ختم کر نے کے لیے۔ مسلمان صبح اٹھ کر دانت صاف کرتا ہے۔ کیو نکہ اللہ کے دربار میں حاضری دینی ہے۔ ہمارے ہاں دانت صاف سنت ہے۔ اس میں نیت کیا کرنی ہے۔ بھائی اللہ کے پاس وہ تو خود بخود جراثیم ویسے ہی مر جا ئیں گے نا ۔جر اثیموں کو کیسے پتہ چلا کہ ہمیں مارنے کے لیے کر رہا ہے یا اللہ کی مرضی کے لیے کر رہا ہے۔ وہ تو جو بھی کیمیکل ہو گا۔ وہ جراثیم کو مارے گا نا۔ مگر ہم نیت کیا کرتے ہیں کہ اللہ ہم تیرے دربار میں حاضری دینے کے لیے جا رہے ہیں تو اللہ نے فر ما یا کہ میلے کچیلے دانتوں کے ساتھ مت آ نا۔ خدا کا دربار ہے بھائی۔ دانتوں کو صاف کرو۔ تبھی رسول اللہ ﷺ سر ہانے پر

مسواک رکھ کر سوتے تھے۔ صبح اٹھتے ہی نبی نے جو سب سے پہلا کام کرنا ہے۔ اٹھنے کی دعا پڑھنے کےبعد دانتوں کی صفائی کرنی ہے۔ کس کے لیے؟ نماز کے لیے۔ اس کے بعد ہاتھوں کو دھو نا ہے۔ یہ اللہ کے۔ یہ ایک ایک چیز اللہ کا حکم ہے نا۔ فر ما یا گیا ۔ اے ایمان والو! جب نماز کا ارادہ کرو تو پہلے اپنے چہروں کو ۔۔ حدیث میں کلی کرنے کا بھی حکم ہے۔ تین دفعہ ناک میں پانی ڈال کر کے۔ تین دفعہ پانی ڈال کر ناک کی صفائی کی ہے۔ کس کے پاس حاضر ہو رہے ہیں؟ یہ عبادت کا طریقہ دنیا میں کسی کے پاس ہے؟ اور یہ انسان کا بنا یا ہوا ہو ہی نہیں سکتا۔ کیو نکہ انسان کے بنا ئے ہوئے جو ہم نے دیکھیں ہیں نہ ۔۔ ان میں یہ حسن و جمال نہیں ہے۔ اور محمد ﷺ جو نہ کسی یو نیورسٹی میں پڑھے اور نہ کسی سکول میں پڑھے۔ وہ کیسے اتنا اچھا طریقہ نکال سکتے ہیں بھائی؟ اور ایسے عربوں کو بیان کر رہے ہیں جن کے ہاں سب سے مہنگی چیز پا نی تھا۔ عرب میں پانی بہت کم تھا۔ ارے دن میں پندرہ دفعہ منہ دھونے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ دن میں پندرہ دفعہ ناک صاف پانی کے ذریعے دھونے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ دن میں پندرہ دفعہ انکو کلی کروائی جا رہی ہے۔ دن میں پندرہ دفعہ بازو دھونے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ د ن میں پندرہ دفعہ پاؤں دھونے کا حکم دیا جا رہا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *