قوت باہ اور شہ۔وت کی کمی و زیادتی

ہر مر دوعورت میں ش۔ہوت یکساں نہیں ہوتی کسی مرد میں ش۔ہوت بہت زیادہ اور کسی مرد میں بہت کم ہوتی ہے۔ اور یہی حال عورتوں کا ہے۔ کسی عورت میں ش۔ہوت زیادہ ہوتی ہے اور کسی میں بہت کم ہوتی ہے ۔ علاقائی آب وہوا اور غذاؤں کا بھی اس میں بڑا دخل ہے بعض گرم علاقوں مثلاً عرب کے

لوگوں میں ش۔ہوت زیادہ اور سرد علاقوں میں نسبتاً کم ہوتی ہے۔ مگر عورتوں میں مقابلہ مرد کے کم ہوتی ہے۔ ف۔عل جم۔اع کی انجام دہی کے لیے جو ق۔وت درکار ہوتی ہے اسے قوت باہ کہتے ہیں۔ جس شخص میں یہ ق۔وت جتن۔ی زیادہ ہوتی ہے۔ اتناہی اس عمل م۔جام۔عت سے فریقین کو نشاط زیادہ حاصل ہوتا ہے اور اگر مرد میں یہ قوت باہ ک۔مزور ہو اور عورت میں شہ۔وت زیادہ ہوتو ایسی حالت میں اکثر عورت کو آسودگ۔ی نہیں ہوتی ہے۔ اگرچہ مر د کی ہ۔وس جما۔ع پوری ہو جاتی ہے۔ بسا اوقات اس نام۔کمل جم۔اع سے جس میں ع۔ورت کو ان۔زال نہیں ہوتا ہے۔ عورت کو نا گ۔وار معلوم ہوتا ہے۔

اور اعصابی بیماریوں ہسٹ۔یر یا وغیرہ میں مبتلا ہوجاتی ہے۔ جم۔اع سے بے رغ۔بتی اور شوہر سے نف۔ر ت کرنے لگتی ہے۔ کث۔رت جم۔اع سے بھی قوت باہ کمزور ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت میں مر د کو علاج کی طرف متوجہ ہونا چاہیے اورحضور نبی کریم ﷺ کی ارشاد فرمائی ہوئی ہدایتوں سے فائد ہ اٹھا نا چاہیے اور دواؤں کے بجائے غذاؤں سے کمزوری کو دور کرنا چاہیے۔ اس زمانہ کے اشتہاری حکیم ڈاکٹر جو اپنے آپ کو س۔یک۔س ایکسپرٹ لکھتے ہیں یا اخبارات میں دواؤں کے اشتہارات دیتے ہیں ان کی دواؤں میں اکثر اف۔یون، دھت۔ورا بھ۔ن۔گ سنک۔ھی۔ا وغیرہ زہ۔ری۔لی اشیاء شامل ہوتی ہیں جن سے فوری طور پر ام۔ساک تو ضرور ہوتا ہے۔ مگر بعد میں نقصان ہوتا ہے۔ اوران کا مسلسل استعمال جلد ق۔ب۔ر کے گ۔ڑھ۔ے تک پہنچا دیتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *