حضور پاکﷺ کے دو حیرت انگیز معجزے

حضرت عثمان بن عفان ؓ سے روایت ہے کہ نبوت کی شہرت کے وقت نبی اکرم ﷺ پر اہل قریش کے ظلم وستم زیادہ ہوگئے تھے ۔ اس وقت ایک یہودی بڑ ا عقلمند تھا اور مدینہ منور ہ میں رہتا تھا۔وہ زیادہ ترتوریب کی تلاوت کیا کرتا تھا۔ایک دن توریت میں حضرت محمدﷺ کی صفت اور نام مبارک دیکھا تو غصہ

میں آکر قینچی سے اس صفت اور نام مبارک کو کاٹ دیا پھر اپنے معمول کے مطابق توریت پڑھنا شروع کردیا تو دیکھا کہ اسی مقام میں دوبارہ نام مبارک موجود ہے ۔پھر نام کو کاٹنے لگا کہ فوراً ایک غیب سے آواز آئی کہ اے شخص اگر تو ایک ہزار بار بھی صفت اور نا م مبارک مٹانے کی کوشش کریگا تو ناکام رہے گا تب یہود ی ڈرا اور جانا کہ محمدﷺ سچے رسول خدا ہیں۔اسی وقت وہ مدینہ منورہ جاکر رسول اللہﷺ پر ایمان لایا اور سچا مسلمان ہوگیا۔دوسرا معجزہ ایک روایت میں ہے کہ ایک دن حضرت محمد ﷺ نے قوم عیسی کو دعوت اسلام دی تو ان لوگوں نے کہا کہ ہمارے پیغمبر عیسیٰ ؑ تو مٹی کی چڑیاں بنا کر پھونک مارتے تو وہ خدا کے حکم سے زندہ ہوکر اُڑ جاتی تھیں۔اگر آپ بھی ہم کو ایسا معجزہ دکھائیں تو ہم لوگ آپ پر ایمان لے آئیں گے تب حضور اکرمﷺ نے تھوڑی سی خاک اُٹھا کر چڑیا کی صورت بناکر بسم اللہ پڑھ کر پھونک ماری تو خدا کے حکم سے وہ زندہ ہوکر اُڑ گئی۔

جب کسی شخص کے چہرے پر یا بکری کے تھنوں پر ورم ہو جاتا تو لوگ اسے حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے آتے اور وہ اپنے ہاتھ پر اپنا لعابِ دہن ڈال کر اپنے سر پر ملتے اور فرماتے بسم اﷲ علی اثرید رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور پھر وہ ہاتھ ورم کی جگہ پر مل دیتے تو ورم فوراً اُتر جاتا۔‘‘سفرِ ہجرت کے دوران جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ اُم معبد رضی اللّٰہ عنہا کے ہاں پہنچے اور اُن سے کھانے کے لئے گوشت یا کچھ کھجوریں خریدنا چاہیں تو ان کے پاس یہ دونوں چیزیں نہ تھیں۔

حضور ں کی نگاہ اُن کے خیمے میں کھڑی ایک کمزور دُبلی سوکھی ہوئی بکری پر پڑی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا یہ بکری یہاں کیوں ہے؟ حضرت اُمِ معبدنے جواب دیا : لاغر اور کمزور ہونے کی وجہ سے یہ ریوڑ سے پیچھے رہ گئی ہے اور یہ چل پھر بھی نہیں سکتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : کیا یہ دودھ دیتی ہے؟ اُنہوں نے عرض کیا : نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اگر اجازت ہو تو دودھ دوہ لوں؟ عرض کیا : دودھ تو یہ دیتی نہیں، اگر آپ دوہ سکتے ہیں تو مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دوھا، آگے روایت کے الفاظ اس طرح ہیں ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *