گناہ پر گناہ کر کے معافی نہ ما نگنے والو

اس نوجوان کا سچا واقعہ جس نے ایک مردہ لڑکی سے زنا کر دیا تھا۔ اس نے جب حضرت عمر  کو یہ بات بتائی تو انہوں نے کیا کہا ؟ اور پھر حضرت عمر  جب اسے رسول اللہ ﷺ کی خدمت ِ اقدس میں لے کر حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے اس سے کیا کہا؟ اور پھر نوجوان نے کیا عمل کیا کہ اللہ نے

اسے بخش دیا ۔ ما یوسی جرم ہے۔ جتنا بھی بڑا گنا ہ ہو۔ اللہ تعالیٰ معاف فر ما دیتے ہیں۔ وہ سچے دل کی توبہ کو قبول کرتے ہیں۔ وہ سچے دل سے اٹھائے ہوئے ہاتھوں کو خالی واپس نہیں لو ٹاتے۔ وہ آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں کی لاج رکھتے ہیں۔ انسان توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ ضرور قبول کرتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے۔ کہ دو قطروں پر اللہ تعالیٰ نے دو قطروں پر جہنم کی آگ حرام کی ہوئی ہے ۔ ایک شہید کے جسم سے نکلنے والا خون کا قطرہ دوسرا گناہ گار کی آنکھ سے احساسِ ندامت بہنے والا آنسو کا قطرہ ۔ دونوں قطروں پر اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ حرام کی ہوئی ہے۔ ایک حدیث تو یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ارشاد فر ما یا کہ اگر انسان کو رونانہیں آ تا گنا ہوں کی وجہ سے دل سخت اور آنکھیں خشک ہو چکی ہیں تو پھر رونے والوں کی سی صورت بنا لینی چاہیے۔ رونے والوں کی صورت بنا لینے سے بھی اللہ تعالیٰ معاف فر ما دیتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فر ما یا: ساری آدم کی اولادیں خطا کار ہیں۔ بہترین خطاکار وہ ہیں جو توبہ کرتے ہیں۔ پیارے دوستو! کیا آپ جا نتے ہیں ۔ جو انسان توبہ کرتا ہے اسے اللہ پاک کیا انعام دیں گے؟ تو آ ئیے سنیے ! نبی کریم ﷺ سے مروی ہے

کہ آپ ﷺ نے ارشاد فر ما یا کہ جب کوئی بندہ گناہ کر تا ہے پھر اللہ سے توبہ کرتا ہے اور وہ اپنی توبہ کو نبھا تا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی ادا کی ہوئیں تمام نیکیاں قبول کر لیتے ہیں اور اس کے کیے ہوئے تمام گناہ معاف کر دیتے ہیں اور ہر نیکی کے بدلے میں اللہ تعالیٰ جنت میں ایک محل عطا فر ماتے ہیں اور حورین میں سے ایک حور کے ساتھ اس کا نکاح کر دیتے ہیں۔ جو لوگ توبہ کرتے ہیں ان کے لیے تین انعامات اللہ نے رکھے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عبا س فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فر ما یا کہ توبہ کر نے والے جب اپنی قبروں سے نکلیں گے تو ان کے سامنے کستوری کی خوشبو پھوٹے گی ۔ یہ جنت کے دستر خوان پر آ کر اسے تنا ول کر یں گے۔ عرش کے سائے میں رہیں گے ۔ جب کہ بہت سے لوگ حساب و کتاب کی سختی میں ہو ں گے۔ دوستو توبہ کا بھی ایک وقت مقرر ہے ۔ انسان کو اپنے گناہوں سے جلد از جلد توبہ کر لینی چاہیے۔ عمر کب مکمل ہو جائے۔ کوئی علم نہیں۔ زندگی کی ڈوری کب کھینچ لی جائے۔ کسی کو خبر نہیں۔ موت کا نکارا کب بج جائے۔ یہ کون جا نتا ہے۔ توبہ کا بہترین وقت زندگی ہے۔ انسان کو اپنی زندگی میں توبہ کر لینی چاہیے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *