ماں کے دودھ کی کمی دور کرنے کا آزمایا ہو ا طریقہ

آج ہم بات کریں گے ماں کا دودھ بڑھانے کا طریقہ ۔ اگرآپ یہ دودھ بنا کر پیتے ہیں انشاءاللہ!آپ اپنا جو دودھ ہے ۔وہ بڑھا پائیں گے۔ ا س کو کیسے بنایا ہے؟کن کن چیزوں کی ضرورت پڑےگی۔ وہ سب کچھ آپ کو بتائیں گے۔ اس کوبنانے کےلیے آپ کوڈیڑھ گلاس دودھ چاہیے ہوگا۔ اور اس کو چولہےپر رکھ

کر ابال لیں۔ اب اس میں ڈیڑھ چمچ سونف کے ڈال دیں۔ اور اس کو دودھ میں اتنا پکائیں اتنا پکائیں کہ یہ ڈیڑھ گلاس دودھ ایک گلاس رہ جائے۔ جب یہ ایک گلاس رہ جائےتو اس کو چولہے سے اتار لیں۔ اب ا س ددوھ کو چھان لیں۔ سونف کو دودھ سے الگ کرلیں۔ اور دودھ کو الگ ایک گلاس میں نکال لیں۔ اس کا طریقہ استعمال یہ ہے کہ آپ نے یہ روزانہ ایک گلاس پینا ہے۔ آپ نے اس کو مسلسل ایک ہفتے دن میں کسی بھی وقت پی سکتے ہیں۔ جس کےپینے سے آپ کی بریسٹ میں دودھ اترتا آئےگا۔ آپ میں دودھ کی کمی دور ہوجائےگی۔ ایک بار ضرور آزما کر دیکھیں ۔ جو خوش نصیب مائیں اپنے بچے کو آنچل سے دودھ پلانا چاہتی ہیں وہ یہ سوال کرتی ہیں کہ بچہ کو دودھ کتنی مدت تک پلانا چاہیے ۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ شرعاً دودھ پلانے کی مدت 2 سال ہے مگر ساری دودھ پلانے والی عورتوں کی حالت یکساں نہیں ہوتی ہے۔بعض زچائیں جو بہت صحت مند ہوتی ہیں

اور ان کو دودھ پلانے کے زمانے میں کوئی کمزوری نہیں ہوتی بلکہ وہ زیادہ ہشاش بشاش نظر آتی ہیں۔ کچھ زچائیں کمزور صحت والی ہوتی ہیں اور دودھ پلانے میں پریشانی اور کمزوری محسوس ہوتی ہے ۔ اس لیے قول فیصلہ یہ ہے کہ اگرزچہ صحت مندہے تو اس کو پوری مدت یا کم از کم اس وقت تک دودھ ضرور پلانا چاہیے جب تک بچہ کے 2-4 دانت نہ نکل آئیں تاکہ وہ غذا کو چبانے کے قابل ہوجائے اور جو زچائیں کمزور صحت والی ہوں یا ان کا دودھ ناقص و خراب ہوتو ان کو اختیار ہے جب وہ اپنے اندر زیادہ دہی کمزوری محسوس کرنے لگیں۔یا ان کا دودھ بچہ کو موافق نہ آرہا ہو بچہ بیمار رہتا ہو تو ان کو جلدازجلد دودھ چھڑادینا چاہیے۔ ناقص دودھ کی اصلاح کےلیے دوائیں آگے تحریر کی جائیں گی۔ شرعاً دودھ پلانے کی مدت پورے 2 سال ہے۔ اس سے زیاہ نہیں پلاناچاہیے ۔ حالانکہ بعض ایسی عورتیں بھی ہمارے زیر علاج رہیں جنہوں نے چارسال تک بچہ کو دودھ پلایا کہ بچہ زبردستی ماں کے آنچل سے لگ جاتا تھا اور نیم و کڑوی چیزیں پستان پر لگالینے پر بھی دودھ نہیں چھوڑتا تھا۔ ایسی صورت میں ہومیوپیتھک دوا لیک کینیکم 200 کی چند خوراکیں دینے سے زچہ کا دودھ بالکل خشک ہوگیا۔ یہ بات بھی تجربہ میں آئی کہ جو عورتیں بخوشی اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہیں ان کے آنچل میں دودھ خوب اترتا رہتا ہے اور حمل بھی قرار نہیں پاتا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *