آزمائش کی گھری آ جائے تو کیا کریں ۔

بڑی عجیب کہا نیاں لکھی ہیں۔ فر ماتے ہیں۔ سلطان محمود ایک نیک بادشاہ تھا اس کے پاس ایک دیہاتی نوجوان آ گیا ۔ اس کا تعلق جہاد سے تھا۔ تعلیم بھی نہیں تھی ۔ کچھ ایسی تر بیت بھی نہیں تھی ۔ مگر بادشاہ کے دربار میں آ کے جب خدمت پر لگا تو اس نے اتنی اچھی خدمت کرنی شروع کی کہ تھوڑے

دنوں میں بادشاہ کی آنکھوں میں بڑا درجہ پا گیا ۔ بادشاہ میں اپنے مقرر بندوں میں شامل کر لیا اب جو پہلے سے مقرر بین تھے نا وہ بہت جیلس ہوتے تھے۔ ہم بڑے خاندان والے اور بڑی عقل سمجھ والے ، تعلیم والے ۔ ہم بادشاہ کے مشیر تھے ۔ یہ کل کا نوجوان پتہ نہیں کہاں سے آ گیا دیہات سے اٹھ کر ۔ کہ بادشاہ کی اس کے اوپر بڑی خاص نظر پڑتی ہے۔ چنانچہ انہوں نے پروگرام بنا یا کہ ہم بادشاہ سے موقع ملنے پر بات کریں گے ۔ انہوں نے بات کی ۔ کہ بادشاہ سلامت ! اتنی محبت کی نظر اس کی طرف اٹھتی ہے ۔ وہ ہمارے اوپر اٹھتی نہیں۔ نسل میں ہم اچھے۔ نصب میں ہم اچھے۔ مال میں ہم اچھے۔ عقل میں ہم اچھے۔ لیکن محبت کی نظر اس کی جو مل گئی۔ وہ ہمیں نہیں مل رہی ۔ تو بادشاہ نے کہا کہ اچھا ! میں کسی موقع پر اس کا

جواب دوں گا۔ اب بادشاہ نے کیاکیا کہ ایک پھل منگو ا یا جو بہت کڑوا تھا ۔ کاشیں بنوائیں اور کاشیں ان سب لوگوں میں تقسیم کر دیں جو اعتراض کرنے والے تھے اور ایاز وہیں بیٹھا تھا ۔ تو جس جس کو وہ کاش ملی اس نے منہ میں ڈالا ۔ تھو تھو کیا ۔ بادشاہ سلامت بڑا ۔ بہت کڑوا۔ تو بہ توبہ۔۔۔ بہت کڑوا۔ سب نے اپنے منہ سے وہ پھل نکا ل دیا اور کہا کہ بادشاہ سلا مت یہ بہت کڑوا ہے ۔ تو بادشاہ سلامت نے جب ایاز کو دیکھا تو وہ مزے سے کھا رہا تھا۔ تو بادشاہ نے اس سے پو چھا کہ ایاز یہ کاش میٹھی ہے؟ جو اتنے مزے سے کھا رہے ہو ۔ !!! اس نے کہا ۔ بادشاہ سلامت ! ہے تو کڑوی۔ کھاتے کیوں جا رہے ہو۔ اس نے کہا ۔ بادشاہ سلامت ! میرے دل میں یہ بات آ ئی کہ جس بادشاہ کے ہاتھوں سے میں زندگی بھر میٹھی چیزیں لے کر کھا تا رہا اگر آج مجھے کڑوی بھی مل گئی تو میں اس کو واپس کیسے کروں !!! عمر بھر میٹھی چیزیں لے کر کھا تا رہا ۔ آج کڑوی بھی مل گئی تو واپس کیسے کروں ؟ کاش کہ یہ چیز ہمارے اندر آ جاتی کہ جس پروردگار کی نعمتوں سے ساری زندگی ہم انجوائے کر تے رہتے ہیں ۔ اگر کبھی کوئی اس کی طرف سے آزمائش کی گھڑی بھی آ جائے تو ہم پھر شکوہ کیوں کرتے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.