مور کا ایک پنکھ رات کو اپنے تکیے کے نیچے رکھ کر سو جائیں

آج میں آپ لوگوں کو ایک ایسے عمل کے بارے میں بتانے جا رہا ہوں۔ اگر آپ لوگ مور کا ایک پنکھ لے کر ا یک پَر لے کر رات کو اس کو اپنے تکیے کے نیچے رکھ کر سو جا تے ہیں۔ تو صبح اٹھتے ہی آپ کی قسمت بدل جائے گی جو عمل میں آج آپ کو بتانے جا رہا ہوں وہ عمل مور کے ایک پَر

کے اوپر ہے مور کے پنکھ کے اوپر وہ ایک عمل ہے اس کو آپ لوگ ضرور کر لیں ۔ انشاء اللہ اتنا فائدہ ہوگا اتنا فائدہ ہوگا کہ آپ کے جو رشتہ دار ہیں۔ وہ آپ کو فون کر کر کے پو چھیں گے کہ ہمیں بھی یہ عمل پو چھ کر بتا دو خدا کا واسطہ ہمیں بھی یہ عمل بتا دو۔ ہماری قسمت بھی جاگ جائے ہمارا مقدر بھی جاگ جائے ہمارے گھر میں بھی سکون آ جائے۔ پاکستان میں مورطرح طرح کے جانور مو جود ہوتے ہیں۔ لیکن مور سب سے زیادہ دل کش اور خوب صورت مخلوق میں سے ہے مور کی دور کی رفتار سولاں کلو میٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے ان کی خوراک میں کیڑے مکوڑے اور درختوں کے پتے شامل ہو تے ہیں۔ جب کہ دنیا بھر کا محفوظ ترین پرندہ اسے سمجھا جاتا ہے مور کے بارے میں مشہور ہوتا ہے کہ جب وہ مست ہو کر اپنی مورنی کے سامنے ناچتا ہے تو اس کی آ نکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں مورنی ان آنسوؤں کو زمین پر گرنے نہیں دیتی۔ بلکہ پی جاتی ہے۔ اور پھر

وقت کے مقرر پر انڈے دینے لگتی ہے مور اور مورنی کا جنسی عمل اسی طریقے سے سر انجام پاتا ہے بعض لوگ مور کو خوش قسمتی کا باعث بھی سمجھتے ہیں یہ بھی سمجھا جا تا ہے کہ اس کے پَر ہر بری نظر اور حسد سے محفوظ رکھتے ہیں تو آ ج میں آپ لوگوں کو ایک ایسا ہی عمل بتانے جا رہا ہوں کہ جس کو آپ مور کے پَر ے اوپر کر لیں۔ مارکیٹ میں سے اپنے کسی دوست سے بازار سے کہیں سے بھی صرف ایک مور کا پَر لیں آ ئیں اب اس پَر آپ لوگوں نے عمل کیا کر نا ہے وہ نوٹ فر ما لیں۔ آپ کو مور کا ایک پَر مل جائے تو رات کو سونے سے پہلے اس پر تین مرتبہ قرآن ِ پاک کی دو سورۃ المبارک ہے جن میں پہلے نمبر ہے سورۃ الفلق اور دوسرے نمبر پر سورۃ الناس ہے آپ لوگوں نے ان دونوں سورتوں کو صرف تین تین مرتبہ اس پَر کے اوپر پھو نک ما دینی ہے۔ سورۃ الفلق کو بھی تین مر تبہ پڑ ھنا ہے اور سورۃ الناس کو بھی تین مرتبہ پڑ ھنا ہے اور پڑ ھ کر پھو نک ما ر دینی ہے۔ اور اس پَر کو اپنے تکیے کے نیچے رکھ دینا ہے۔ صبح اٹھ کر دیکھیں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ آپ کی قسمت بدلی ہوئی ہوئی ہو گی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *