جب حاملہ عورت کو ساتواں آٹھواں مہینہ ہوتا ہے تو مشکل ہوتی ہے؟؟ کیا شوہر اپنی حاملہ بیوی کی زیر ناف کے بال اتا ر سکتا ہے؟؟؟

عورتوں کے ان مسائل کو بیان کرتے ہیں جن کوکرنے میں وہ ہچکچاتی ہے۔ اور شرماتی ہے۔ اور شرم کے مارے اپنا اہم مسئلہ کسی سےبیان نہیں کرپاتی۔ اوروہ پریشانی کا شکا ررہتی ہے۔ آج کا ہمارہ بیان ایک ایسے پیچیدہ مسئلہ کی طرف ہے جو کہ بہت نازک اور اہم مسئلہ ہے۔ آج کا سوال یہ ہے کہ

حالت حمل میں تو کیا شوہر اس کے زیر ناف بال کاٹ سکتا ہے؟ آپ کو معلوم ہے کہ حالت حمل میں اور خصوصاً آخری مہینوں میں ، جب عورت کا ساتواں یا آٹھواں مہینہ چل رہا ہوتا ہے۔ تو اس کا پیٹ باہر کی جانب بڑھ جاتا ہے۔ تو ایسی صورت میں اس کےلیے زیر ناف بال کاٹنا مشکل ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اس کا ہاتھ صیحح طریقے اس کی جگہ پر نہیں پہنچ سکتا۔ اور وہ تکلیف میں آجاتی ہے۔ اس کےلیے یہ کام پریشانی کا باعث بن جاتا ہے۔ اب آپ خود سوچیے کہ ایک موٹا آدمی ہے اوراس کا پیٹ باہر کو نکلا ہوا ہے تو زیرناف بال کاٹنے میں مشکل پیش آئے گی۔ تو سوال یہ ہے کہ مرد یہ کام کر سکتا ہے جی ہاں! شریعت اس بات کی بالکل اجازت دیتا ہے۔ کیونکہ قرآن پاک کے مطابق میاں بیوی ایک دوسرے کا ستر ہیں۔ ایک دوسرے کا لباس ہیں۔ تو بعض کوئی مجبوری یا عذر ہے تو شوہر یا میاں اپنی بیوی کے زیرناف بالوں کاٹ سکتا ہے۔تو شوہر کو ایسی پریشانی یا عذر ہے۔ تو بیوی

بھی اس کے زیر ناف بال کاٹ سکتی ہے۔ اب زیرناف بال کاٹنے میں کوئی شرم یا قباحت نہیں کیونکہ شریعت اس بات کی اجازت دیتی ہے۔ لیکن ایک بات خیال رکھنا ضروری ہے وہ کیا ہے؟ کہ اگر آپ ایک دوسرے کے زیرناف کے بال کاٹ رہے ہیں۔ توخیال رکھے کہ ش رم گ اہ کی طرف نگاہ نہ رکھے۔کیونکہ ایک دوسرے کی ش رم گ اہ دیکھنے سے بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ جو بھولنے کی بیماری ہے وہ پیدا ہوجاتی ہے۔ تولہذا اس معاملے میں اس بات کا خاص احتیا ط رکھنا ضروری ہے ۔ کہ شوہر بیوی کے یا بیو ی شوہر کے زیرناف بال کو کاٹ سکتی ہے لیکن ایک دوسرے کی ش رم گ اہ کی طر ف نہیں دیکھنا ۔ یعنی شریعت اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ اگر عورت حمل کی حالت میں ہے ۔ اگر اس کا ہاتھ نہیں پہنچ سکتا ہے۔ یا ایسا کوئی شرعی عذر ہے یا بیماری ہے یا ایسا کوئی معاملہ ہے۔ یا موٹاپے کی وجہ سے پیٹ باہر نکلا ہوا ہے۔ اور اس کا ہاتھ نہیں پہنچ پارہا۔ تو میاں بیوی کو شریعت اس بات کی اجازت دیتی ہے۔ کہ وہ ایک دوسرے کے زیر ناف بال کا ٹ سکتے ہیں۔ اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ بس خیال اس بات کارکھنا ہے کہ ایک دوسرے کی طرف نگا ہ نہیں رکھنی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.