نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اپنی بیوی کے سامنے یہ چیز لٹکا دو۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے جو بات بیان کی ہے لیس الغنی عن کسوۃ العرۃ ولکن الغنی من النفس مال دار انسان مال سے نہیں بنتا دل سے بنتا ہے کتنے لوگ ہیں جن کی جیبوں میں کچھ نہیں ہوتا مسکراتے پھر رہے ہوتے ہیں جیسے بادشاہ ہیں ا ور کتنے کروڑوں کے مالک ہوتے ہیں کہ اپنے اوپر

بھی خرچ نہیں کرتے پتہ کیاچلتا ہے بس جی وہ جوڑ رہا ہے اور یہی بات اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے سمجھائی تھی کہ تم میں سے اکثر لوگ اپنے وارثوں کے لئے مال جمع کرتے ہیں اور لوگوں کا مال اسے زیادہ پسند ہے صحابہ نے پوچھا کون ہے جو لوگوں کے مال کو پسند کرتا ہے جو تم نے کھالیا اور ہضم کرلیا جو پہن لیا اور بوسیدہ کرلیا جو اللہ کی راہ میں دے دیا اورجنت کمالی باقی سارے کا سارا تو تم چھوڑ کے جانے والے ہو وہ تو لوگوں کے لئے تم محنت کررہے ہو وہ تو تم وارثوں کے لئے جمع کررہے ہو تو تمہیں وراثت سے محبت زیادہ کیوں ہے تمہیں تو محبت اس سے ہونی چاہئے جو تیرے پاس موجود ہے تو نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسی لئے امت کو یہ ڈائیریکشن دے دی ہے کہ یہ جو سنت کا پہلو تم نے اختیار کیا ہے اس میں سنت طریقے سے ہی معاشرتی ماحول کو بہتر بنانے کے لئے اپنے گھر کے ماحول کو خوبصورت بنانے کے لئے خرچ اخراجات میں نہ تو بخل کیا کرو اور نہ ہی اسراف کیا کرو اور گھر کو ہر وقت بیلنس رکھنے کے لئے آپ کی ہیبت ہونی چاہئے بیوی پر اور

اگر لفظی ترجمہ کر دیا جائے تو کوڑا لٹکانا چاہئے جہاں وہ دیکھتی رہے تا کہ گھر میں کوئی معاملہ عین غین نہ ہو اور اگر تم نے اس کو ڈرانا ہے سمجھانا ہے تو اللہ سے ڈراؤ لوگوں کا معمول یہ ہے کہ آج چھوٹی سی بات ہو تو ڈرانے کے لئے ایک نیا بلا پالا ہوا ہے میں طلاق دے دوں گا شریعت یہ کہتی ہے کہ واخفہم فی اللہ تمہیں اللہ سے ڈرانا چاہئے تمہیں کہنا چاہئے مومنہ عورت صالحہ عورت ایسے نہیں کرتی اور جو نیک عورت ہوتی ہے وہ اس طرح کے رویوں کو نہیں پیش کرتی تمہیں اللہ کی جنت چاہئے جنت کو حاصل کرنے والے ایسے پہلو پیش نہیں کرتے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس نے اپنی کتاب میں لکھا اور وہ اپنی ذات کے متعلق لکھتا ہے جو اُس کے پاس عرش پر رکھی ہوئی ہے کہ میرے غضب پر میری رحمت غالب ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو عرش کے اوپر اپنے پاس لکھ کر رکھ لیا: بے شک میری رحمت میرے غضب سے بڑھ گئی ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *