رنگ کو گورا کرنے کا بہترین طریقہ

سول کیا گیا جسم کے مسام بند ہیں پسینہ نہیں آتا برائے مہربانی علاج بتائیے؟اس کا علاج یہ ہے کہ صابن کا استعمال ترک کر دیجئے اور اس کی جگہ ملتانی مٹی سے اپنے جسم کو ملئے رگڑئیے پہلے وقت میں صابن نہیں لگاتے تھے مٹی کا ایک رگڑنے والا ٹکڑا ملتا تھا اسے چاواں کہتے تھے تو اس چاویں

کا استعمال کیجئے اس سے نہائیے کھردرا چاواں لے لیجئے اور اسے صابن نہیں لگانا بلکہ ملتانی مٹی لگالیجئے اور اسے رگڑیئے اور سر پر دودھ لگانا ہے گائے کا دودھ لگانا ہے بھینس کا نہیں لگانا ملائی نہیں لگانی اقبال نے سو سال پہلے کہا تھا دودو نہاؤ پھولو پھلو مطلب دودھ کے ساتھ جو نہائے گا وہ پھولے گا بھی پھلے گا بھی چاواں م ا ر ن ا ہے اور اس کے بعد دودھ سے نہانا ہے جیسے سرسوں کا تیل پورے جسم پر لگاتے ہو اسی طرح دودھ لگا کر پانچ منٹ لگا رہنے دیں اور پھر چاواں م ا ر ن ا ہے اور پھر پانی سے نہانا ہے انشاء اللہ بہت ہی زبردست علاج ہے اور بہت ہی فائدہ حاصل ہوگا۔خوبصورت چہرہ اللہ سبحانہ وتعالی کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہے۔. ایسے چہرے جو خوبصورت ہوں لوگ فطرتا ان کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ان سے ملاقات اور گفتگو کر کے خوش ہوتے ہیں۔ان کے پاس بیٹھنا دلی سکون کا باعث بنتا ہے۔خوبصورت چہرے میں اللہ سبحانہ وتعالی نے ایسی کشش رکھی ہے کی لوگ خود بخود اسکی محبت میں مگن ہو جاتے ہیں۔دل بہانے تلاش کرتا ہے اس خوبرو کو ملنے کے۔میں ایک کتاب کے مطالعہ میں مصروف تھا تو ایک حدیث پڑھ کر چونک گیا کہ میرے پیارے نبی کیا ہی فطرت شناس تھے۔امام احمد نے فضائل الصحابہ میں ایک حدیث روایت کی ہے جسکی راویہ سیدہ عائشہ صدیقہ ام المؤمنین سلام اللہ علیھا ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اطلبوا الحوائج عند حسان الوجوہ۔ترجمہ۔اپنی ضرورتیں

خوبصورت چہرے والوں سے طلب کرو۔خلیفہ دوئم سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں میں نے پڑھا ہے کہ آپ کبھی بدصورت اور برے نام والوں کو کام کا نہیں فرماتے تھے۔ایک دفعہ بوری اٹھوانے کے لیے راہ گیر کو آواز دی جب وہ قریب آیا تو پوچھا تیرا نام کیا ہے وہ کہنے لگا میرا نام ظالم ہے۔فرمایا باپ کا؟ کہنے لگا سارق ہے۔حضرت نے اس سے بوری نہیں اٹھوائ اور فرمایا۔جاؤ تم ظلم کرو اور تمہارا باپ چوری کرے مجھے تمہاری مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ اسی طرح کا ایک واقعہ حضرت امام شافعی رحمہ اللہ کا میرے مطالعہ سے گزرا۔امام شافعی علم قیافہ کے بہت ہی ماہر تھے خود بہت خوبصورت تھے اس لیے بد صورت لوگوں سے آپکی جان جاتی تھی۔ایک سفر میں تھے کہ جنگل میں شام ہوگئی۔ایک دہقان کی جھونپڑی نظر آئی۔وہاں گئے دیکھا کسان بہت ہی بد صورت اور مکروہ شکل تھا۔آپ بہت پریشان ہوئے لیکن کیا کرتے مجبوری میں رات گزارنے کے لیے خاموشی اختیار کی۔کسان خلاف توقع بہت محبت سے پیش آیا۔اس نے آپکی بہت مہمان نوازی اور مدارت کی۔امام رات بھر اس تفکر میں رہے کہ اسکو تو بہت خبیث ہونا چاہیے تھا یہ ایسا متواضع اور محبت والا کیوں ہے۔جب صبح ہوئ تو کسان بڑے راستے تک الوداع کہنے کے لیے گیا۔الوداع کرنے سے پہلے کہنے لگا۔حضرت آپکی طرف ایک سو دس درہم بنتے ہیں۔آپ نے پوچھا وہ کیسے؟ کہنے لگا روٹی کے پچاس پانی کے دس چارپائی کے دس بستر کے دس مصلے کے دس اور ہاتھ پاؤں دابنے کے بیس یہ کل 110درہم بنتے ہیں۔امام نے فورا وہ رقم ادا کر دی اور فرمایا شکر ہے میرا علم تو تباہی سے بچ گیا۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.