کیا لڑکیوں کو ونی کرنا جائز ہے ؟ کیا لڑکیوں کی قرآن سے شادی ہوسکتی ہے

ونی کی مقروح رسم بھی پنجاب اور سندھ کے مختلف علاقوں میں موجود ہے گھر کے مردوں کے جھگڑے چکانے کیلئے معصوم لڑکیوں کو اس کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے ایسا نکاح جس میں لڑکی کی رضا مندی نہ ہو شریعت میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ۔ ونی اس لیے بھی ناپسندیدہ ہے یہ نکاح س ز ا کے

طور پر کیا جاتا ہے شادی محض ج ن س ی خواہشات اور جذبات کی تسکین کا نام نہیں یہ رشتہ محبت اور موخت ورحمت پر مبنی ہے جیسا کہ قرآن کریم کی سورت الروم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم میں سے جوڑے بنائے تاکہ اس سے سکون حاصل کرو اور شادی کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان رحمت کا رشتہ قائم کردیا ۔ ونی کے نتیجہ میں ہونے والی شادی جبراً ناپسندیدگی ناگواری اور نفرت پر مبنی ہوتی ہے ایسی شادی کے نتیجے ایک مہذب وشائستہ نسل کا فروغ ناممکن ہے اسلام میں س ز ا کا اُصول یہ ہے کہ جس نے جرم کیا اس کو س ز ا دی جائے قرآن پاک کا ارشاد ہے کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ۔ ونی میں جرم کوئی اور کرتا اور س ز ا کسی اور کو دی جاتی ہے ۔ صوبہ سندھ میں قرآن سے شادی کی انتہائی مضموم رسم پائی جاتی ہے قرآن سے شادی جہالت اور جہالیت کی ایک شکل ہے جس میں اگر اپنی ذات میں رشتہ نہ ملے تو لڑکی ساری زندگی کنواری رہتی ہے اور قرآن ہی پڑھتی اور پڑھاتی ہے اس قسم کی شادی کا رحجان اسی ماحول اور علاقے میں پایا جاتا ہے جہاں جہالت پائی جاتی ہے قرآن سے شادی قرآن سے تعلق غلط استعمال ہے اور شادی کے لفظ اور روپ کو بھی غلط مفہوم اور معنی

پہنناے کے مترادف ہے ۔ شادی اور نکاح مرد اور عورت کے درمیان رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کا نام ہے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کے بعد دونوں کو جن سی تسکین حاصل کرنے کی اجازت ملتی ہے اس تعلق کے نتیجے میں اولاد پیدا ہوتی ہے معاشرتی اور سماجی حوالے سے بات کی جائے تو شادی ارتقائے نسل انسانی کا ذریعہ ہے ۔ شادی ایک انسانی ادارہ ہے جس کے دو اجزاء مرد وعورت ہیں شادی انسانی ادارہ اسی صورت میں ہوسکتی ہے جب اس کے اجزاء انسان ہوں اگر ایک جزو انسان ہو اور دوسرا جزو اس کے علاوہ کچھ اور ہو تو یہ انسانی ادارہ نہ رہے گا قرآن سے عورت کی شادی کے پس منظر میں رہبانیت کا تصورملتا ہے جہاں مرد یا عورت ایک طرح سے مذہب کیساتھ شادی کرتے ہوئے تجرد کی زندگی گزارنے کا عہد کرتے ہیں قرآن سے شادی بھی اپنے نتیجے کے اعتبار سے مجروح رہنے یا مجروح کو مجروح رکھنے کی ایک صورت ہے ۔ اسلام میں نہ تجرد کی کوئی گنجائش ہے نہ رہبانیت کی نبی پاکﷺ کی واضح احکام موجود ہیں اسلام میں کوئی رہبانیت نہیں۔ بخاری شریف کتاب النکاح پہلی حدیث ہی ترغیب نکاح کے متعلق ہے اس میں نبی پاکﷺ کو خبر ملی تین صحابہ گفتگو کررہے تھے ایک نے کہا میں کبھی شادی نہیں کروں گا ایک نے کہا میں ہمیشہ راتوں کو عبادت میں مشغول رہوں گا تیسرے نے میں روزے سے ہوں گا نبی پاکﷺ نے ان تینوں کی سخت الفاظ حوصلہ شکنی فرمائی ۔ قرآن سے شادی اسلام کے احکامات کی کھلی مخالفت ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.