سورۃ عنکبوت ایک مکڑی کے نام پر کیوں رکھی گئی مکڑی بچے پیدا کرنے کے بعد بچوں کے باپ کو قت ل کیوں کرتی ہے

یہ بات ایک حقیقت گزرتے ہوئے زمانے اور ادوا ر کے ساتھ انسان نے مادی کائنات کے متعلق اپنے بنیادی علم اور تجربات کی بنیاد پر نہ صرف ترقی کی بلکہ کئی ایسے حقائق کا ادارک بھی کیا جن تک پہنچنا گزشتہ ادوار میں ایک ناممکن سی بات تھی ۔ لیکن جو ں جوں سائنسی ترقی کی بدولت انسان کے

مشاہدے اور تجربے کے دائرہ کار وسیع ہوتے گئے تو بہت سے معلوم ہونے والے نئے مادی حقائق کی قرآنی انکشافات کیساتھ حیرت انگیز مماثلت ثابت ہوتی نظر آئی ۔ مثلاً عنکبوت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے سرپرست بنا لئے ہیں انکی مثال مکڑی جیسی ہے جو اپنا گھر بناتی ہے اورسب گھروں میں سے کمزور گھر مکڑی کا ہی ہے کاش یہ لوگ علم رکھتے ۔یہاں اللہ تعالیٰ نے مکڑیوں کی مثال دیتے ہوئے ساتھ یہ بھی کہا کاش یہ لوگ علم رکھتے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہاں کس علم کی بات کی جارہی ہے مکڑیوں کے بارے میں ایسا کونسا علم ہے جو ہم نہیں جانتے ۔ حال ہی میں مکڑیوں پر ایک تحقیق کی گئی ہے جس کے مطابق مادہ مکڑی بچے دینے کے بعد اپنے بچوں کے باپ کو قت ل کرکے گھر سے

باہر پھینک دیتی ہے ۔ اولاد بڑی ہوجاتی ہے وہ یہی عمل اپنی ماں سے کرتے ہوئے نہ صرف اسے ماردیتی ہے بلکہ گھر سے باہر بھی پھینک دیتی ہے ۔ اگر غور کیا جائے تو قرآن پاک کی صورت عنکبوت کو اردو میں مکڑی کہا جاتا ہے اس میں ارشاد باری تعالیٰ کہ سب سے کمزور گھر عنکبوت ہے
اگر یہ انسان علم رکھتے ۔ انسان مکڑی کے گھر کی ظاہری کمزوری تو جانتے ہی تھے کیونکہ وہ جالے کا بنا ہوا ہوتا ہے مگر اس گھر کی مانوی کمزوری یعنی خانہ جنگی سے بے خبر تھے ۔ مکڑیوں پر ہونے والی جدید ریسرچ اس کمزوری سے واقف کروادیا ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر یہ علم رکھتے مکڑی کی گھریلو کمزوریوں اور دشمنیوں سے واقف ہوتے ۔ حیرت انگیز طور اس صورت کے شروع سے آخرتک گفتگو فتنوں کے بارے میں ہے ۔ مکڑیوں کے گھر کی کمزوری سے متعلق جو بات قرآن پاک میں چودہ سوسال پہلے بتادی گئی ہے ۔ جدید سائنس آج اس کو تسلیم کرنے پر مجبور ہے ۔قرآن پاک اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جس کا ایک ایک حرف اپنے اندر ایک مکمل فلسفہ رکھتا ہے ضرورت اس امر کی ہے قرآن پاک کو پڑھ کر سمجھنے کی کوشش کرلی جائے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن پڑھنے اور اس پرعمل کرنے اور اسے سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.