آپ اپنے گھر سے غربت کا خاتمہ چاہتےہیں تو رسول اللہ ﷺ کیا بتائی ہوئی یہ ایک چیز گھر لے آئیں

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بن عبد اللہ روایت فرماتے ہیں: “نبی صلّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم نے ایک مرتبہ اپنے گھر والوں سے سالن کا پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس سرکہ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے اسے طلب کیا اور فرمایا کہ سرکہ بہترین سالن ہے”۔حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہ روایت فرماتی ہیں:

“ہمارے پاس نبی صلّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم تشریف لائے اور پوچھا کہ کیا تمہارے پاس کھانے کے لئے کچھ ہے۔ میں نے کہا نہیں! البتہ باسی روٹی اور سرکہ ہے۔ فرمایا کہ اسے لے آؤ۔ وہ گھر کبھی غریب نہیں ہو گا۔جس میں سرکہ موجود ہے”۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتی ہیں: “رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم نے فرمایا سرکہ بہترین سالن ہے”۔حضرت ام سعد رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کہ گھر میں موجود تھی اور انہوں نے فرمایا: “کیا تمہارے پاس کھانے کو کچھ ہے۔ انہوں نے کہا ہمارے پاس روٹی، کھجور اور سرکہ ہے۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وآلہٖ وسلّم نے فرمایا: “بہتر سالن سرکہ ہے۔ ” اے اللہ! تو سرکہ میں برکت ڈال کے یہ مجھ سے پہلے نبیوں کا سالن تھا۔ اور وہ گھر غریب نہ ہو گا جس میں سرکہ موجود ہو”۔ نوٹ: آجکل جو سرکہ دستاب ہے، ان احادیث میں اس کی بات نہیں ہو رہی۔ سرکہ سازی کا بنیادی طریقہ کار جو آج کے دور میں رائج ہے۔ یہ معمولی فرق کے ساتھ بالکل وہی ہے جو آج سے ہزاروں سال پہلے کا تھا بلکہ بنوں، کوہاٹ اور پشاور کے علاقوں میں جہاں گھر گھر میں سرکہ سازی ہوئی ہے، وہی قدیم طریقہ استعمال کیا جاتا ہے یعنی کسی میٹھے یا نشاستہ دار محلول کو ضامن لگا کر جب خمیر اٹھایا جاتا ہے تو اس میں الکحل پیدا ہو جاتی ہے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ نکل جاتی ہے اور پھر جب الکحل اور آکسیجن کا ملاپ ہوتا ہے تو سرکہ بن جاتا ہے جبکہ اطباء کے ہاں سرکہ کی تیاری کا طریقہ کچھ اس طرح ہے کہ جس چیز کا سرکہ بنانا ہو، پہلے اس کا رس (جوس) حاصل کرکے پھر اس کو کسی روغنی مٹکے میں ڈال کر زیر زمین اس طرح دبایا جاتا ہے کہ مٹکے کا تمام حصہ زمین کے اندر رہے اور صرف گردن باہر ہو یا پھر کسی ایسی جگہ

رکھا جاتا ہے جہاں سورج کی شعاعیں دیر تک رہیں۔ تقریباً چالیس روز بعد یا پھردو ماہ کے بعد نکال کر استعمال میں لاتے ہیں۔ مجموعی طور پر تیاری کے اعتبار سے سرکہ کی تین اقسام ہیں۔ پہلی قسم وہ ہے جو پھلوں سے تیار کی جاتی ہے۔ یہ فطری اور قدرتی طریقہ سے بننے والا سرکہ ہے جو اپنی افادیت کے اعتبار سے بھی اعلٰی خاصوصیات کا حامل ہے۔دوسری قسم خشک اجناس مثلاً جو کے جوہر (ایکسٹریکٹ) سے تیار ہوتی ہے، اپنی افادیت کے اعتبار سے یہ دوسرے نمبر پر ہے۔ تیسری قسم تیزاب سرکہ سے تیار کی جاتی ہے۔ اس کی تیاری میں مقطر پانی، تیزاب سرکہ کچھ مقدار چینی اور رنگ استعمال کیا جاتا ہے۔سرکہ گنے، جامن، انگور، چقندر، گندم، جو وغیرہ سے تیار اور استعمال کیا جاتا ہے۔سیب کاسرکہ بہت سے مسائل کے حل کے لئے جانامانا جاتاہے۔لیکن ایک مسئلہ ہے جوحل ہی نہیں ہوتا کہ اصلی سیب کاسرکہ ملے گاکہاں؟تو اب اس مسئلے سے جان چھڑائیں اور تھوڑی محنت سے نہایت صاف اور خالص سرکہ خود اپنے ہاتھوں سے اپنے ہی گھر میں بنائیں۔بس سیب دیسی اور بے داغ ہونے چاہئیں۔ ۱۔پانچ گلاس پانی اچھی طرح ابال کرٹھنڈاکرکے چھان لیں۔۲۔ایک کلو سیب کو اچھی طرح دھوکر خشک کرلیں۔جب سیب خشک ہوجائیں تو چھلکوں اور بیج سمیت انکے تقریباً ایک ایک انچ کے ٹکڑے کرلیں۔۳۔نیم گرم پانی میں کٹے ہوئے سیب اور چار چمچ بھر کر شہد شامل کریں۔اگر اصلی شہد دستیاب نہ ہوتو گڑ کو پگھلاکرشہد کی جگہ

اسکااستعمال کریں۔۴۔ایک گھنٹے تک وقفے وقفے سے لکڑی کاچمچ ہلاتے رہیں۔۵۔اب اسے شیشے یامٹی کے صاف اور خشک مرتبان میں ڈالیں۔اس میں ایک چمچ کوئ بھی دیسی سرکہ بطور ضامن شامل کردیں-۶۔مرتبان کے منہ کو صاف ململ کے کپڑے سے باندھ دیں اور اندھیرےمیں صاف ستھری خشک جگہ یعنی ایسی جگہ رکھیں جہاں سورج کی روشنی نہ ہووہاں رکھ دیں۔۷۔روزانہ لکڑی کے چمچ سے ہلاتے رہیں تاکہ فنگس نہ آئے۔اس کی بو سے نہ گھبرائیں-۸۔اس کی تیاری میں تقریباً دوہفتے لگتے ہیں۔ جب تمام سیب نیچے بیٹھ جائیں تواسے چھان لیں۔۹۔اس سرکہ کو ایئر ٹائٹ جار میں مزید ایک ماہ تک رکھیں۔سیب کاسرکہ تیار ہے۔اسمیں ہلکی سی بُو آئے گی اس سے پریشان نہ ہوں کیونکہ اصلی سرکہ میں بُو ہوتی ہے۔نوٹ:چمچ صرف لکڑی کااور سرکہ کی تیاری کے لئے مرتبان شیشے یا مٹی چینی کاہی استعمال کریں۔ ہرگز ہرگز کسی بھی دھات کا برتن یا چمچ استعمال نہ کیجئے-ٹپ :سرکہ سے نکلے ہوئے سیب بھی آپ استعمال کرسکتے ہیں اگر آپکے پیروں پر نشانات ہیں تو ان سیب کاپیسٹ بنائیں اور اپلائی کریں نشانات دور ہوجائیں گے۔اس طریقے سے آپ کسی بھی پھل یا اناج کا سرکہ تیار کرسکتے ہیں- انگور کے سرکے کے لئے آپ انگور کی جگہ عمدہ کشمش استعمال کرسکتے ہیں- گنے کے سرکے کے لئے گنے کا رس استعمال کیجئے- کھجور ، جامن وغیرہ- اگر آپ مٹی کے مٹکے میں سرکہ تیار کریں گے تو دوسری مرتبہ اس میں سرکہ بنانے کے لئے آپ کو بطور ضامن یا جاگ کے ایک چمچ دیسی سرکہ ڈالنے کی ضرورت بھی نہیں ہوگی بلکہ وہ مٹکا ہر طرح کے سرکہ بنانے کے لئے تیار ہوگا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.