زندگی کے تین اُستاد ؟ ٹوٹا ہوا دل ،خالی جیب

صاحب نے ٹیکسی روکی بیٹھے تو دیکھا کہ ڈرائیور نے تلاوت چلا رکھی ہے،پوچھا :کوئی مر گیا ہے کیا؟ ڈرائیور نے کہا : ہاں صاحب ہمارا ضمیر۔زندگی کے تین خوبصورت استاد:1۔ٹوٹا ہوا دل ،2:خالی جیب ۔3: مسلسل ناکامی۔رشتے توڑنے کا مشورہ تو کوئی بھی دے سکتا ہے مگر رشتے جوڑنے اور نبھانے

کی ترغیب کوئی باشعور شخص ہی دے سکتا ہے ۔ لوہے کو کوئی تباہ نہیں کرسکتا سوائے اس کے اپنے زنگ کے اسی طرح کوئی بھی انسان کو تباہ نہیں کرتا اس کی اپنی سوچ اسے تباہ کردیتی ہے ۔کتنا کرم ہے اللہ پاک کا ہم پر پہلے مسلمان پیدا فرمایا پھر حضور اکرم ﷺ کی امت بنادیا اور پھر قرآن پاک کا تحفہ عطا کردیا بعض لوگ کہتے ہیں کہ میں غلط بات بالکل برداشت نہیں کرتا در حقیقت غلط بات ہی تو برداشت کرنے والی ہوتی ہے اچھی بات کو تو برداشت کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔لوگوں کو تقویٰ سے زیادہ کسی چیز کی تاکید نھیں کی گئی اس لئے کہ یہ ھم اھل بیت کی وصیت ھے ۔ حضرت علی علیہ السلام نے امام حسن سے فرمایا :بچہ کا دل خالی زمین کے مانند ھے جو بھی اسے تعلیم دی جائے گی وہ سیکھے گا لھذا میں نے تمھاری تربیت میں بھت ھی مبادرت سے کام لیا قبل اس کے کہ تمھارا دل سخت اور فکر مشغول ھو جائے ۔حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں :خیر و عافیت کے 10 جزء ھیں ان میں سے 9 جز ء خاموش رھنے میں ھیں سوائے ذکر خدا کے اورایک جز بیوقوفوں کی مجلس میں بیٹھنے سے پرھیز کرنے میں

ھے ۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں :جو شخص اپنے کو لوگوں کی پیشوائی و رھبری کے لئے معین کرے اسکے لئے ضروری ھے کہ لوگوں کو تعلیم دینے سے پھلے خود تعلیم حاصل کرے ، اور آداب الٰھی کی رعایت کرتے ھوئے لوگوں کو دعوت دے ،قبل اس کے کہ زبان سے دعوت دے ( یعنی سیرت ایسی ھو کہ زبان سے دعوت دینے کی ضرورت نہ پڑے)۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں:ھر وہ شخص جسکی تمام کوشش پیٹ بھرنے کے لئے ھے اسکی قیمت اتنی ھی ھے جو اس کے پیٹ سے خارج ھوتی ھے ۔آگاہ ھو جاو ! وہ علم کہ جس میں فھم نہ ھو اس میں کوئی فائدہ نھیں ھے ، جان لو کہ تلاوت بغیر تدبر کے کے سود بخش نھیں ھے ، آگاہ ھو جاؤکہ وہ عبادت جس میں فھم نہ ھو اسمیں کوئی خیر نھیں ھے ۔حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں :وہ شخص جو جھاد کرے اورجام شھادت نوش کرے اس شخص سے بلند مقام نھیں رکھتا جو گناہ پر قدرت رکھتا ھو لیکن اپنے دامن کو گناہ سے آلودہ نہ کرے ۔حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں : حقیقت توبہ چار ستونوں پر استوار ھے : دل سے پشیمان ھونا، زبان سے استغفار کرنا ،اعضاء کے عمل کے ذریعے اور دوبارہ ایسا گناہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرنا ۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں :انسان کو چاھیے کہ اپنی زبان کی حفاظت کرے اس لئے کہ یہ سر کش زبان اپنے صاحب کو ھلاک کر دیتی ھے خدا کی قسم! میں نے کسی بندہ ٴمتقی کو نھیں دیکھا جس کو اس کے تقوی نے نفع پھونچایا ھو مگر یہ کہ اس نے اپنی زبان کی حفاظت کی ھو ۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *