کمرے میں یہ 5 چیزیں لکھ کر لگا دے اتنے فائدے کے مرتے دم تک

گناہ اتنا کرو جتنا تم میں عذاب سہنے کی طاقت ہے حضرت مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ تم جتنا چاہو گناہ کرو اگر اللہ تعالیٰ نے تمہاری اسی زندگی کو جہنم کا نمونہ نہ بنا دیا تو میرا نام بدل دینا اور واقعی ایسا ہوتا ہے کہ جو انسان گناہوں میں لگتا ہے اسی دنیا میں اور پھر

کہتا ہے جی اس جینے سے تو مر جانا اچھا تھا پریشان ہے تو کہہ رہا ہے کہ جینے سے مرجانا اچھا تھا تو بہتر ہے انسان گناہ ہی نہ کرے تو یہ پانچ باتیں تھیں جو حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ کے کمرے میں انہوں نے لکھ کر لگائی ہوئی تھیں پہلی بات دنیا کے لئے اتنی محنت کرے جتنا تمہیں دنیا میں رہنا ہے دوسری بات آخرت کے لئے اتنی محنت کرو جتنا آخرت میں رہنا ہے اور تیسرا اللہ کی رضا کے لئے اتنی محنت کرو جتنا تم اس کے محتاج ہو اور چوتھی بات صرف اسی سے مانگو جو کسی کا محتاج نہیں اور پانچویں بات کہ گناہ اتنا کرو جتنا تم میں عذاب سہنے کی طاقت ہے
اور ہم میں تو بالکل ہی طاقت نہیں عذاب سہنے کی لہٰذا اللہ رب العزت کے حضور فرمایاد کیجئے کہ اے کریم آقا ہم پر رحمت کی نذر فرما دیجئے ہمیں گناہوں کی ذلت سے بچا دیجئے ہم تو دنیا میں دو بندوں کے سامنے کی ذلت برداشت نہیں کرسکتے کل قیامت کے دن ساری مخلوق کے سامنے کی ذلت کیسے برداشت کریں گے اسی لئے تو علامہ اقبال نے ایک شعر کہا تھا تو غنی از ہر دو عالم من فقیر اللہ تو دو عالم سے غنی ہے میں فقیر ہوں روزِ محشر گزرہائے من فضیل اللہ قیامت کے دن میرے عذروں کو قبول کر لیجئے گا گرد می بینی حسابم ناگزیر اور اگر آپ یہ فیصلہ کرلیں کہ میرا حساب

لازماً لینا ہے تو اے اللہ از نگاہِ مصطفیٰ پنہاں بگیر اللہ مصطفیٰ کریم کی نذروں سے اوجھل میرا حساب لے لینا میرے پلندے ان کے سامنے کھلیں گے کتنی شرمندگی ہوگی تو آج وقت ہے ہم اپنے گناہوں سے سچی توبہ کر کے اپنے اللہ سے اپنے گناہوں کو بخشوا لیں پرور دگار عالم دنیا اور آخرت میں ہمیں اپنی حفاظت عطا فرمائے ۔اتباعِ نفس سے اجتناب کرتے ہوئے اس میں یکسوئی اختیار کر لو پھر اپنا آپ، حتیٰ کہ سب کچھ اﷲ کے سپرد کر دو اور اپنے قلب کے دروازے پر اس طرح پہرہ دو کہ اس میں احکاماتِ الٰہیہ کے علاوہ اور کوئی چیز داخل ہی نہ ہو سکے اور ہر اس چیز کو اپنے قلب میں جاگزیں کر لو جس کا تمہیں اﷲ نے حکم دیا ہے اور ہر اس شے کا داخلہ بند کر دو جس سے تمہیں روکا گیا ہے اور جن خواہشات کو تم نے اپنے قلب سے نکال پھینکا ہے ان کو دوبارہ کبھی داخل نہ ہونے دو۔توبہ کا مطلب ہے قابلِ مذمت افعال کو قابلِ ستائش افعال سے تبدیل کرنا اور یہ مقصد خلوت اور خاموشی اختیار کئے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا۔مذکورہ بالا تعریفات کی روشنی میں توبہ کا مفہوم یہ ہے کہ شریعت میں جو کچھ مذموم ہے اسے چھوڑ کر ہدایت کے راستے پر گامزن ہوتے ہوئے، پچھلے تمام گناہوں پر نادم ہو کر اﷲ سے معافی مانگ لے کہ وہ بقیہ زندگی اﷲ کی مرضی کے مطابق بسر کرے گا اور گناہوں کی زندگی سے کنارہ کش ہو کر اﷲ کی رحمت و مغفرت کی طرف متوجہ ہو جائے گا اس عہد کرنے کا نام توبہ ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.