حدیث نبوی ﷺ ایسی بیوی کو جلدی طلاق دیدو

رسول اللہﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک حلال چیزوں میں طلاق سے زیادہ ناپسندید ہ چیز کوئی نہیں ۔ ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تین آدمی ایسے ہیں۔ جو دعا کرتے ہیں۔ لیکن ان کی دعا قبول نہیں کی جاتی ۔ وہ شخص جس کے پاس بدخلق بیوی تھی ۔ لیکن ا س نے اس عورت

کو طلاق نہیں دی۔ وہ شخص جس کا کسی دوسرے شخص کےذمہ کچھ مال تھا۔ لیکن اس نے گواہ نہیں بنایا۔ او ر وہ شخص جس نے اپنا مال کسی بیوقوف کودیا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بیوقوفوں کو اپنا مال نہ دو۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی پاکﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور کہنے لگا! میری بیوی کسی چھونے والے کا ہاتھ نہیں روکتی۔ آپﷺ نے فرمایا: اگر تو چاہے تو اسے طلاق دیدے۔ وہ کہنے لگا مجھے خطرہ ہے میرا دل اس کا پیچھا نہیں چھوڑے گا۔ آپﷺ نے فرمایا: پھر اس سے فائدہ اٹھاتا رہے۔ حضرت سیدنا لقلید بن صبرہ رضی اللہ عنہ

سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میری ایک بیوی ہے۔ وہ بڑی زبان دراز ہے۔ اور مجھے اذیت دیتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اسے طلاق دیدو۔ اس نے کہا میرے اس کے ساتھ پرانا ساتھ ہے۔ اور اس سے میری اولاد بھی ہے۔ آپ ﷺنے فرمایا: پھر اسے روک لو ۔ اور اسے بھلائی کی تلقین کرتے رہو۔ اگر اس میں بھلائی قبول کرنے کی صلاحیت ہوئی تو وہ قبول کرلے گی۔ بہرحال تونے اپنی بیوی کو اس طرح نہیں مارنا۔ جیسے لونڈی کو مارا جاتا ہے۔ حضور اکرمﷺ نے فرمایا: اللہ اس کے چہرے کو تروتازہ رکھے جس نے میرے سے کوئی حدیث سنی ۔ پھر جیسے سنی اسے ویسے ہی آگے پہنچادیا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.