ہلدی کی چائے پینے کی 9 تصدیق شدہ فائدے

ہلدی کسی تعریف کی محتاج نہیں ہے اور جدید میڈیکل سائنس اپنی روزانہ کی تحقیق میں ہر روز اس کے نئے فائدے ڈُھونڈ لیتی ہے اسی لیے بہت سے لوگ اسے بطور سپلیمینٹ اپنی خوراک میں شامل کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمارا جسم چونکہ ہلدی کو جلدی ہضم نہیں کرپاتا جس کی وجہ سے آپ اسے زیادہ مقدار میں

استعمال نہیں کر پاتے اور زیادہ تر لوگ اسے اپنی خوراک میں شامل کرنے کے لیے اس کے بازای سپلیمنٹ خرید لیتے ہیں جو جسم میں جلدی جذب ہونے کی گارنٹی دیتے ہیں۔ہلدی کی چائے ہلدی کو بطور سپلیمینٹ لینے کا سب سے مُفید طریقہ ہے کیونکہ اس میں تازہ ہلدی کو باریک کاٹ کر یا ہلدی کا پاوڈر پانی میں پکایا جاتا ہے جو ہلدی کو زُد ہضم بنا دیتا ہے، ماہرین نے ہلدی کی کوئی مقررہ مقدار مقرر نہیں کی جسکے اندر رہتے ہُوئے اسے استعمال کیا جائے اور طبیب حضرات اگر اسے کسی بیماری کے لیے استعمال کرتے ہیں تو اپنے علم کے مُطابق اس کی خوراک کا تعین کرتے ہیں، غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ اسے بطور سپلیمنٹ استعمال کر رہے ہیں تو 5 سو سے 6 سو ملی گرام بغیر کسی پریشانی کے اس کا استعمال کر سکتے ہیں۔ہلدی کی چائے بنانے کے لیے ایک چائے کی چمچ ہلدی پاوڈر کو پانی میں پکا لیں اور حسب ذائقہ شہد یا گُڑ شامل کر کے اسے نہار مُنہ نوش کریں یا رات کو سونے سے پہلے اسکا قہوہ پی لیں یہ آپ کی صحت کو درجہ ذیل فائدے دے گا۔ہلدی میں شامل اسکا بُنیادی کمپاونڈ کُرکومن زبردست اینٹی اینفلامیٹری خوبیوں کا حامل ہے اور اعضا کی اندرونی اور بیرونی سوزش میں انتہائی فائدہ مند چیز ہے پہلے زمانے میں اگر کسی کو کوئی چوٹ وغیرہ لگتی تھی تو

اُسے ہلدی کا دُودھ پلایا جاتا تھا لیکن آپ ہلدی کو جوڑوں کی درد کے خلاف پانی میں پکا کر بھی پی سکتے ہیں یہ جوڑوں سے سوزش ختم کر کے خ ون کی روانی کو بہتر بنائے گا اور درد میں راحت پیدا کرے گا۔میڈیکل سائنس ہلدی پر اپنی تحقیقات میں اس نتائج پر پہنچی ہے کہ اس کے طاقتور اینٹی آکسائیڈینٹ غذائی اجزا قوت مدافعت کو طاقتور بناتے ہیں اور عام موسمی بیماریوں میں ہلدی کی چائے کسی اینٹی بائیوٹیک سے کم کام نہیں کرتی۔ہلدی کی اینٹی اینفلامیٹری اور اینٹی آکسائیڈینٹ خوبیاں دل کے بہت سے امراض میں انتہائی فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں یہ بلڈ پریشر کو نارمل کرنے میں مدد دیتی ہیں اور خ ون کی نالیوں میں چکنائی کو جمنے سے روکتی ہیں اور دل کے اٹیک کا خدشہ کم کر دیت ہیں۔کینسر پر ہونے والی بہت سی تحقیقات میں ہلدی کو اینٹی کینسر پایا گیا ہے جو اعضا کے خلیوں کو خراب ہونے سے بچاتی ہے اور خراب خُلیوں کی مرمت کرتی ہے اور خُلیوں کا خراب ہونا جسم میں کینسر جیسے مرض کو دعوت دیتا ہے۔ہلدی ہاضمے کی خرابیوں کو دُور کرنے کے لیے صدیوں سے استعمال کی جارہی ہے اور جدید تحقیقات کے مُطابق

ہلدی پیٹ میں پیدا ہونے والی درد کو دُور کرتی ہے پاخانہ کو آسانی کے ساتھ خارج کرنے میں مدد دیتی ہے اور کھانے کو جلد ہضم کر دیتی ہے جس سے پیٹ میں کھانے سے گیس اور تیزابیت جیسے مرض پیدا نہیں ہوتے۔بھولنے کی بیماری ایک خطرناک اور تکلیف دہ بیماری ہے اور ہلدی اس کا قُدرتی علاج ہے کیونکہ یہ دماغی سوزش کو ختم کرکے خراب خُلیوں کی مرمت کر دیتی ہے اور اعصاب کے لیے انتہائی فائدہ مند غذا ہے۔بہت سی سائنسی تحقیقات کے مُطابق ہلدی میں شامل کُرکومن جگر کی خرابی کی صُورت میں انتہائی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہ ہضم کرنے والے مادے بائل کی مقدار میں اضافے کا باعث بنتی ہے اور جگر کے متاثرہ حصوں کی مرمت کر کے انہیں پھر سے فعال بنا دیتی ہے۔ہلدی میں اینٹی ذیابطیس خُوبیاں شامل ہیں کیونکہ یہ خوراک سے گلوکوز کو خ ُون میں تیزی سے شامل ہونے سے روکتی ہے جس سے ہائی شُوگر کا خطرہ کم ہوجاتا ہے اور اعضا کی اندرونی سوزش جو کے ذیابطیس کی بیماری کی بڑی وجہ ہے اُسے ختم کرتی ہے اور شُوگر کے مریضوں کے لیے کسی اکسیر سے کم نہیں۔نظام تنفس سے جُڑی بیشمار بیماریاں ایسی ہیں جو صرف ہلدی کی چائے پینے سے دُور ہو جاتی ہیں خاص طور پر استھما کے مریضوں کے لیے ہلدی کی چائے تکلیف میں فوری راحت کا سبب بنتی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.