فرشتے نے خوشخبری دی کہ جس گھر میں یہ عمل 3 رات کیا جائے گا ۔

قرآن کریم میں آپؐ کو اس طرح حکم دیا گیا:اور رات کے کچھ حصہ میں تہجد کرو یہ خاص تمھارے لئے زیادہ ہے قریب ہے کہ تمھیں تمھارا رب ایسی جگہ کھڑا کرے جہاں سب تمھاری حمد کریں سورۃ الدھر آیت 26 میں ارشاد ہے:رات کے وقت اس کے سامنے سجدے کرو اور بہت رات تک اس (الله کی) تسبیح بیان کیا

کرو۔سورۃ طور آیت 49 میں ارشاد ہے:اور رات کو بھی اس کی تسبیح پڑھو اور ستاروں کے ڈوبتے وقت بھی۔ان آیات مبارکہ کے مطابق نماز تہجد، سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک زائد فرض نماز تھی جس کا مقصد آپؐ کے درجات کو مزید بلند کرنا ہے (کیوں کہ نبی معصوم ہوتا ہے۔ اس سے گناہ سرزد نہیں ہوتے) مقام محمود وہ مقام یا درجہ ہے جو قیامت کے روز رسول عربی صلی الله علیہ وسلم کو عطا کیا جائے گا۔ اسی مقام سے آپؐ امت مسلمہ کی شفاعت فرمائیں گے۔تہجد کی نماز سنت ہے۔ یہ وہ نفل نماز ہے جو تمام نفلی نمازوں پر بھاری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ اس کا اہتمام فرمایا اور صحابہ کرام کو بھی اس کی تلقین اور ترغیب دی۔ اس حوالے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے:تم تہجد ضرور پڑھا کرو ، کیوں کہ وہ تم سے پہلے صالحین کا طریقہ اور شعار رہا ہے۔ یہ تمھارے رب کا قرب حاصل کرنے کا خاص وسیلہ ہے۔ یہ گناہوں کے برے اثرات کو مٹانے والی اور گناہوں کو روکنے والی ہےسورۃ آل عمران آیت 113 تا 115 میں فرمان الٰہی ہے:سارے کے سارے یکساں نہیں، بلکہ ان اہل کتاب میں

ایک جماعت حق پر قائم رہنے والی بھی ہے جو راتوں کے وقت بھی کلام الله کی تلاوت کرتے ہیں اور سجدے بھی کرتے ہیں۔ یہ الله تعالٰی پر اور قیامت کے روز پر ایمان بھی رکھتے ہیں۔ بھلائیوں کا حکم دیتے ہیں۔ برائیوں سے روکتے ہیں۔ بھلائی کے کاموں میں جلدی کرتے ہیں۔ یہ نیک بخت لوگ ہیں۔ یہ جو کچھ بھی بھلائیاں کریں، ان کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور الله تعالٰی پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے۔ایک اور مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل نماز درمیانی رات کی نماز تہجد ہے۔ایک اور حدیث مبارکہ میں آیا ہے: الله تعالٰی رات کے آخری حصہ میں بندے سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ پس اگر ہو سکے تو تم ان بندوں سے ہو جاؤ جو اس مبارک وقت میں الله کو یاد کرتے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الله تعالٰی رات کے آخری تہائی حصہ میں آسمان سے دنیا کی طرف نزول کر کے فرماتا ہے کہ کون ہے جو مجھ سے مانگے اور میں اسے عطا کروں؟ کوئی ہے جو مجھ سے بخشش اور مغفرت طلب کرے کہ میں اسے بخش دوں؟ نماز تہجد دراصل قبولیت دعا کا وقت ہے، اس لئے اس وقت جو بھی مانگا جائے وہ دنیا و آخرت میں ضرور ملے گا۔ آیات قرآنی اور احادیث مبارکہ کی رو سے نماز تہجد ، نفلی عبادت ہے اور دیگر نفلی عبادات میں افضل ترین ہے۔ اس کا درجہ فرض نماز کے بعد سب سے افضل ہے، اس لئے اس کا اہتمام کرنا ضروری ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *