مرنے سے چالیس دن پہلے ایک یہ خطرناک خواب آ تا ہے۔ حضرت علی ؓ نے فر ما یا۔ اگر آپ نے دیکھا ہے تو آپ مرنے والے ہیں۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک شخص آیا اور انتہائی ادب سے عرض کرنے لگا یا علی رضی اللہ عنہ ! میرا ایک دوست تھا جس کا آج انت قال ہوگیا ہے۔ لیکن وہ کافی عرصے سے ایسی ایسی باتیں کرتا تھا جیسے ہم یہ معلو م ہوتا تھا کہ شاید اس کی م وت ہوجائے ۔ کیا موت سے پہلے انسان کو

پتہ چلتا ہے؟ کہ وہ م رنے والا ہے یا نہیں ؟ تواس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے شخص ! یاد رکھنا اللہ نے عالم ملکوت، عالم بیاہ اور عالم عروہ کے بیج ہرانسان کے لیے مایاکل روا رکھا ہے ۔ جو اسے آنے والی مصیبتیں ، پریشانیاں اور وقت کے بارے میں آگاہ کر دیتا ہے۔اللہ اپنے بندوں سے پیار کرتا ہے۔ انسان م وت کو ختم ہونے کا نام سمجھتے ہیں۔ اصل میں م وت ایک زندگی کی طرف انسان کو لے جانے کا نام ہے۔ م وت ختم ہونے کا نام نہیں ۔ کبھی اللہ اپنے بندوں سے م وت کا ڈر ختم کرنے کے لیے الہامی خواب دکھاتا ہے۔ تا کہ م رنے والے انسان م وت کو نئی زندگی سمجھے ۔اور م رنے سے پہلے اپنی اصلاح میں لگ جائے۔ اپنے آپ کو بہتر بنانے کی کوشش کرے۔ اپنے گ نا ہوں کی معافی مانگ لے۔ جس طرح وہ کبھی کسی سفر کو جاتا ہے۔ تو اس کی تیاری کرتا ہے۔ اس کا سامان جمع کرتا ہے۔ ویسے ہی برزخ کا سامان جمع کرلے ۔وہ انسان کہنا لگا یا علی رضی اللہ عنہ !

اس خوا ب میں کیا مناظر نظر آتے ہیں۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس منظر میں اس خواب میں یہ نظر آتا ہے۔ کہ انسان سفر کر رہا ہے۔ اس کا لباس سفید ہوتا ہے۔ اور اس سفر میں اور اس سفر میں وہ انسان جو اس کے ساتھ رہتے تھےلیکن آج مرچکے ہیں۔ وہ اسے نظر آتے ہیں۔ اور یہ کہتے ہیں کہ تمہارا سفر ختم ہونے والا ہے۔ جبکہ انسان ان لوگوں کو دیکھتا ہے۔ جو ان کے ساتھ پہلے رہتے تھے وہ مرنے کے بعد بھی ختم نہیں ہوئے ۔تو انسان مطمئن ہونے لگتا ہے۔ تو اس سے موت سے ڈر نہیں لگتا ۔ تو وہ کہنے لگا یاعلی ! اگر کوئی ایسا خوا ب دیکھے تو اسے معلو م کیسے ہو گا؟ کہ یہ الہامی خواب تھا یا شیطانی ؟ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب بھی اس قسم خواب دیکھو ، خواب دیکھنے کے بعد تم ڈرنے لگو، پریشان ہونے لگو، تو سمجھ جانا کہ وہ خواب شیطانی ہے لیکن اس خواب کے بعد تم مطمئن ہونے لگو اور تمہیں م وت سے پیار ہونے لگے حضرت علی ؓ کے فرمان ہمارے لیے زندگی اور آخرت کا نمونہ ہیں ۔ ہمیں ان کے اقوال پر عمل کر نا چاہیے اور اس طرح سے عمل کر نا چاہیے کہ کیا ہی بات ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *