کندھوں پر اٹھانے والے ہمیشہ مٹی میں ملا دیتے ہیں

آج کل لوگ وفادار کم اور اداکار زیادہ ہوگئے ہیں۔ ہر بات دل پر لگاؤ گے تو روتے رہ جاؤ گے جو جیسا ہے اس کے ساتھ ویسا بننا سیکھو۔ بے وقوف سے بحث کرنا دراصل یہ ظاہر کرتا ہے کہ بے وقوف ایک نہیں بلکہ دو ہیں۔ جس لہجے میں بات کرو۔ اس لہجے میں سننا بھی سیکھو۔ سچے انسان کے

لیے جھوٹ میں کوئی اچھا مقصد ہوسکتا ہے۔ لیکن جھوٹے انسان کا سچ صرف آگ لگانے کےلیے ہوتا ہے۔ جو محسوس نہ کر سکیں ان پر الفاظ بھی کیوں ضائع کیے جانیں۔ قدر اور قب ر کبھی جیتے جی نہیں ملتی۔ موسی ؑ نے جس راستے سے دریا پار کیا تھا۔ فرعون اسی راستے پر غرق ہوا۔ راستے نہیں رہبر بچاتے ہیں۔ نصیحت کیجیے ۔ مگر شرمندہ کیجیے۔ مقصد دستک دینا ہوتاہے۔ دروازہ توڑنا نہیں ۔ جب کوئی دوست تمہیں اپنا راز بتائے تو یہ سمجھ لینا کہ وہ اپنی عزت تمہیں امانت دیتا ہے۔ اس میں کبھی بھی خیانت مت کرنا۔ ہم لوگ نیک بننا نہیں صرف نیک دکھنا اور کہلانا چاہتے ہیں اور یہ منافقت کا سب سے اعلیٰ درجہ ہے۔ وفا کر و تو دریا کنارے اگی ہوئی گھاس کی طرح جب ڈوبنے والا اسے پکڑتا ہے یا تو وہ اس کو بچالیتی ہے۔ یا پھر ڈوبنے والے کے ساتھ خود بھی ڈوب جاتی ہے۔ اس شخص کو کوئی نہیں بدل سکتا جس کو اپنے اندر کوئی غلطی نظر نہ آتی ہو۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ آ پ کی بات کو توجہ آپ کی حیثیت دیکھ کر ملتی ہے۔ تقدیر اسے کہتے ہیں جو انسان کو کھینچ کے وہاں لے جائے جہاں انسان اپنی

مرضی سے ناجانا چاہے۔ سچ کہنے کا اگر شوق ہوتو تنہاء چلنے کا بھی حوصلہ رکھنا چاہیے۔ جب تک تیرا غرور اور غ صہ باقی ہے۔ اپنے آپ کو نیک لوگوں میں شمار مت کرنا۔ کسی کو اجاڑ کر بسے تو کیا بسے کسی کو رلا کے ہنسے تو کیا ہنسے ۔ کسی معمولی نظر آنے والے انسان کی عزت کرنا آپ کی شرافت کا ثبوت ہے۔ کسی معمولی نظر آنے والے انسان کو دلیل کرنا آپ کے پست ہونے کا ثبوت ہے۔ اللہ سے ڈریے ۔ پھر اس شخص سے ڈریے۔ جو اللہ سے نہیں ڈرتا۔ لاتعلقی نف رت سے زیادہ بدترین س زا ہے۔ رستہ پوچھنے مین شرم محسوس نہ کرو ورنہ منزل کھو بیٹھو گے ۔ سب کے سامنے اپنے دکھ بیان نہ کرو ۔ لوگ آپ کے ساتھ رو کر سنیں گے اور پھر دوسروں کو ہنس کر سنائیں گے ۔ جب تک اللہ نہ چھینے کو ئی نہیں چھین سکتا۔ جب تمہارے دل میں کسی کے لیے نف رت پیدا ہونے لگے تو فوراً اس کی اچھائیاں یا دکرو۔ تلخ ہونے میں او ربدتمیز ہونے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ اور اکثر لوگ اس فرق میں تمیز نہیں کرپاتے۔ بہترین سبق اکثر گھٹیا لوگوں سے ملتاہے۔ عزت دار مرد کی ایک نشانی یہ بھی ہوتی ہے ۔ کہ وہ عورت کو کبھی گالی نہیں دیتا۔ دوچہروں کا بوجھ نہ اٹھا یا کیجیے۔ دل نہ ملے تو ہاتھ بھی نہ ملایا کیجیے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *