چہرے پر چھائیاں کس وجہ سے پڑتی ہیں

ہمارا جو آج کا موضوع ہے وہ اس حوالے سے ہے کہ جو چہرے کے اوپر کیل چھا ئیاں پڑ جاتی ہیں اور آج کل یہ مسئلہ بہت ہی عام ہو چکا ہے کہ جس طرح سے چہرے پر کیل چھا ئیاں پڑ جاتی ہیں اور ان کا کوئی مستقل علاج بھی کوئی نہیں ہے تو اس کے علاج کروانے سے لوگ بہت ڈرتے ہیں کہ کہیں

ہمارے جلد ہی خراب نہ ہو جائے یا کوئی او ر دوسرا مسئلہ نہ ہو جائے کیو نکہ ہر کسی شخص کو بھلے وہ مرد ہے یا عورت اس کو اپنے چہرے سے اور اپنےچہرے کی جلد سے بہت ہی زیادہ پیار ہے ہر کوئی یہی چاہتا ہے کہ اس کا چہرے بالکل صاف اور شفاف ہو اور طرح طرح کی داغ دھبوں کیل چھائیوں اور دانوں سے پاک ہو اور خوبصورت جگمگا تا ہو ا چہر ہ ہر مرد اور عورت کی خواہش ہوتا ہے۔ جیسا کہ ہم سب ہی جانتے ہیں کہ خوبصورت چہرہ کی تلاش ہر عورت کو ہوتی ہے خوبصورت چہرہ کی تلاش ہر عورت کو ہونے سے مراد میر ی یہ ہے کہ ہر عورت ہی یہی چاہتی ہے کہ اس کے چہرے پر کوئی بھی کسی بھی قسم کا کوئی داغ دھبہ نہ ہو ورنہ اس سے وہ بہت ہی زیادہ پریشان ہو جاتی ہیں۔ آج کل کے معاشرے میں خصوصاً ہماری جو خواتین ہیں وہ اس معاملے میں بہت ہی زیادہ سنجیدہ نظر آتی ہیں ہر عورت ہی چاہتی ہے کہ اس کا چہرے بہت ہی زیادہ پاک صاف

ہو ہر کسی کے داغ دھبوں سے اور ہر طرح کی کیل چھائیوں سے۔ تو آج میں ایک ایسا نسخہ لے کر آیا ہوں کہ جس کی مدد سے خواتین اور مرد دونوں ہی اپنی جلد کو بہت ہی زیادہ خوبصورت بنا سکتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے چہرے سے جتنے بھی داغ دھبے ہیں ان سب کو دور کر سکتے ہیں ایک نئی زندگی اپنے چہرے کو لے کر حاصل کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ ہم سب کو ہی پتہ ہے کہ چہرے کا مریض بہت ہی زیادہ ہے کسی کو چہرےپر الرجی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کسی کو چہرے پر دانے ہیں پھنسیاں سی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ داغ دھبے اور کیل چھائیاں بھی ہیں تو اب ایسے تمام افراد جو اپنے چہرے کی وجہ سے پریشان ہیں وہ پریشان ہو نا چھوڑ دیں۔ آپ کے چہرے کی چھائیاں بھی ختم ہو ں گی اور آپ کے اندر جو خون کی قلت ہے۔ وہ بھی پوری ہو جائے گی انشاءا للہ۔ اس میں بڑا آسان سا نسخہ ہے انشاء اللہ یہ مسئلہ حل ہو جائے گا صبح ناشتے میں تین سے پانچ عدد اگر کوئی زیادہ کھا نا چاہے تو سات کھجور یں لے لے اور تین سے پانچ عدد بادام کی گری لے لے بادام کی گری رات کو بھگو کر چھیل کر یہ دونوں چیزیں دودھ کے ساتھ کھا لیں اگر شہد ملا لیں تو اور بھی اچھا ہو جائے گا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *