ایسے مرد جن میں اولاد پیدا کرنے کی طاقت نہیں ان کے لیے تحفہ

مکھانوں کا استعمال آپ نے کسی نہ کسی ڈش کے طور پر ضرور کیا ہو گا کئی لوگ اسے استعمال کر تے ہیں جس کو صحت سے جڑے بہت سارے طبی فوائد ہیں مکھانے نہ صرف کھانے میں بہترین ہوتے ہیں بلکہ اس کو استعمال کر نے سے آپ اپنے آپ کو اپنے جسم کو بہت ساری بیماریوں سے محفوظ

رکھ سکتے ہیں جن لوگوں کو ہائی بلڈپریشر کا مسئلہ ہے ان کو مکھانے کا استعمال با قاعدگی سے کر نا چاہیے یہ ناصرف ان کے بلڈ پریشر کو متواز ن رکھے گا بلکہ اس کی وجہ سے ہونے والے خطرات سے بھی محفوظ رکھے گا دراصل مکھانے میں میگنیشیم کی مقدار پائی جاتی ہے جو انسانی جسم میں بلڈ پریشر کی مقدار کو کنٹرول رکھنے میں بہت ہی زیادہ اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ جیسا کہ ہم سب لوگ ہی اس بات سے بہت ہی اچھے سے واقف ہیں کہ بلڈ پریشر کتنی خطر ناک بیماری ہے ہم نہیں جانتے کہ بلڈ پریشر کتنی خطر ناک بیماری ہے ہم میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو کہ اس بیماری کے بارے میں جانتے ہی نہیں ہیں اور اس بیماری کو مد نظر رکھتے ہوئے کسی بھی قسم کا کوئی پرہیز نہیں کرتے ہیں او ر پرہیز نہ کرنے کی وجہ سے ایسا بھی ہوتا ہے کہ مزید بیمار پڑ جا تے ہیں اور مزید بیمار پڑنے کی صورت میں وہ موت کے منہ میں بھی چلے جاتے ہیں۔ ہم نے کئی بار دیکھا

ہے کہ ہم ایسے اشخاص سے ملاقات کرتے ہیں کہ جو کہتے ہیں۔ کہ جو کچھ بھی ہوتا ہے اللہ کی طر ف سے ہی ہوتا ہے ایسی سوچ کیوں ہے ہماری میرا کہنے کا مقصد ہے کہ جو کچھ بھی ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی مرضی سے ہی ہوتا ہے میں اس بات کو دل کی گہرائیوں سے تسلیم کر تا ہوں مگر اللہ پاک نے دماغ بھی تو دیا ہے ہم اس نعمت کو اس اللہ پاک کی نعمت کو کیوں نہیں سمجھتے کہ اس کو استعمال بھی کر نا چاہیے ہم سب ہی اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں یہ سوچے سمجھے بنا کہ اس نے ہمیں دماغ کی صلا حیت یعنی سوچنے کی صلاحیت بھی بخشی ہے اور یہاں تک کہ ہمیں سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنے کی بھی صلا حیت بخشی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم نے بہت بڑی بڑی غلطیاں کی ہیں۔ ایسی غلطیاں جنہیں وقت پر نہ سدھا را جائے تو وہ وبالِ جان بن جاتی ہیں ایسی ہی ایک غلطی بے اولادی ہے جو مرد یا عورت اولاد پیدا نہیں کر سکتے دنیا یا معاشر انہیں اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتا ہو تا مکھانے بلڈ پریشر کو متواز ن رکھنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں بزرگ لوگ دن میں دو بار مکھانوں کا استعمال کر سکتے ہیں۔ ایسا اس لیے کہا جا رہا ہے کیوں کہ اس میں کیلشیم کی بہت ساری مقدار پائی جاتی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *