حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میاں بیو ی کے درمیان یہ کام کرنے سے ساری زندگی تباہ بربا د ہوجاتی ہے

آپ کو وہ حکایت بتاتے ہیں جس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان تین کاموں کا ذکر فرمایا ہے جن کاموں کی وجہ سے عورت کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے۔ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک شخص نے دریافت کیا کہ ایسا کونسا انسان ہے ؟ جس کے ساتھ زندگی بسرکرنا مشکل ہوتا ہے؟

اور جس کی وجہ سے عورت کی زندگی برباد ہوکر رہ جاتی ہے۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کہ یا درکھو ! جس مردمیں یہ تین کام ہوں۔ تو اس کے ساتھ زندگی بسر کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اس کے یہ تین کام اس کی بیوی کی زندگی برباد کردیتے ہیں۔ پہلی خامی یہ ہے کہ وہ نامحرم کو گندی نگاہ سے دیکھتا ہے دوسری خامی یہ ہے کہ وہ خود کو اعلی ٰ دوسروں کم تر سمجھتا ہو۔ تیسری خامی یہ ہےکہ وہ بات بات پر جھوٹ بولتاہو۔ جس مرد میں تینوں کام یا خامیاں ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ رہنے والے رسوائی او رپریشانی کا سامنا کرتے ہیں۔ ایک شخص نے دوبارہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا اے امیر المومنین! ایسے شخص کی پہچان کیسے ہوسکتی ہے؟ توآپ نے فرمایا: ایسے شخص کی پہچان اس بات سے ہوجاتی ہے۔ ایسا شخص اپنے آپ کو محترم اور اونچا سمجھتا ہے اور جبکہ دوسروں کو حقیر خیال کرتا ہے۔ تم جب بھی انسانوں سے ملو۔ تو یہ دیکھو کہ جب انسان اپنے سے کم حیثیت لوگوں سے ملتا ہے۔ تو کیسے ملتا ہے؟ اور اپنی حیثیت سے اوپر والوں کو ملتا ہے تو کیسے ملتا ہے تو تمہیں خود اندازہ ہوجائے۔ کہ یہ خامی کس میں موجود ہے۔ میں اللہ کے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ عظیم انسان کی یہ نشانی ہے کہ جب بھی وہ اپنے سے کم حیثیت انسان سے

ملتا ہے تو ان کو اپنے سینے سے لگاتا ہے۔ نہ کہ ان کو کم تر سمجھے ۔ میاں بیوی آپس میں ایک دوسرے کےلیے عز ت کا جذبہ ہونا چاہیے۔ کسی بھی فریق کو دوسرے فریق سے اپنے سے کم تر خیال نہیں کرنا چاہیے ۔ ایک دوسرے کےلیے برابری کا جذ بہ ہونا چاہیے۔ دونوں میاں بیوی کا ایک دوسرے پر اعتما د ہونا چاہیے۔ اگر میاں بیوی میں یہ باتیں ہوں گی۔ تو ا ن کی زندگی آسان گزرے گی۔ یا درہے کہ جو رشتے جھوٹ پر قائم ہوتے ہیں۔ وہ رشتے پائیدا ر نہیں ہوتے۔ اگر مرد بیوی سے جھوٹ بولے گا تو بھی آپس کا اعتماد ٹوٹ جاتا ہے۔ یا پھر بیوی شوہر سے جھوٹ بولے تو بھی آپس کا اعتما د ٹو ٹ جاتا ہے ۔ اس لیے جھوٹ سے اجتنا ب کرنا چاہیے۔ یاد رہے کہ اسلام اس بات کا درس دیتا ہے کہ مرد اپنی بیویوں سے حسن سلوک رکھیں ۔ اہل وعیال کو خوش رکھنا بھی نبی اکرمﷺ کے نزدیک دینی خدمت ہے۔ جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا : کامل ایمان والا وہ شخص ہے جو اخلاق میں اچھا ہو۔ اور تم میں سے بہترین وہ لوگ ہیں۔ جو اپنی عورتوں کے حق میں بہتر ہوں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *