پیاز کے ذریعے بال اگانے آزمودہ نسخہ۔ گنجے پن کا جڑ سے خاتمہ۔

آج ہم آپ کو پیاز کے ذریعے بال اُگانے کا آزمودہ نسخہ بتانے جا رہے ہیں آج ہم آپ کے ساتھ پیاز کی جو خصوصیات شئیر کر نے جا رہے ہیں وہ ان لوغوں کے لیے بہت مفید اور فائدہ مند ہے جو لوگ بال گرنے کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں اگرچہ روزانہ پچاس سے ساٹھ بال گرنا معمول کی بات ہے

لیکن زیادہ بال گرنے سے لوگ بہت زیادہ پریشان ہو جا تے ہیں اور ان کو گنجے پن کا ڈر لاحق ہو جا تا ہے جیسا کہ سب لوگ جانتے ہیں گنجا پن شکل میں میں نا خوشگوار تبدیلی پیدا کر تی ہے جس سے متاثرہ شخص کے اعتماد میں بھی کمی واقع ہو جا تی ہے یوں تو بالوں کو گرنے سے بچانے کے کئی طریقے موجود ہیں جو بالوں کو گرنے سے وقتی طور پر تو روک دیتے ہیں لیکن ان کے بالوں پر مضر اثرات بھی مر تب ہو تے ہیں تو آج ہم آپ کو پیاز کی اس خصوصیت سے آگاہ کر نے جا رہے ہیں جو نہ تو صرف بالوں کو گرنے سے روکتی ہے بلکہ گرے ہوئے بال واپس لانے میں بھی معاون ثابت ہو تی ہے اور کا کوئی سائیڈ ایفیکٹ بھی نہیں ہے آپ پیاز کا جوس نکال کر اسے سر پر لگا سکتے ہیں یا پھر اسے دیگر جڑی بوٹیوں کے ساتھ ملا کر لگا یا جا سکتا ہے پیاز میں سلفر وافر مقدار میں پا یا جا تا ہے جو کھو پڑی پر لگانے سے دوران خ و ن کو بہتر بنا تا ہے اور اس سے کو لچن کی پیداوار میں بھی اضافہ ہو تا ہے جو بالوں کی نشو و نما میں اہم کردار ادا کر تے ہیں آپ جو سر مشین

کے ذریعے پیاز کا رس نکال سکتے ہیں یا پھر چار سے پانچ پیاز لیں اور ان کو کاٹ لیں کاٹنے کے بعد ان کو پانی میں دس منٹ تک ابال لیں اور اس کے بعد پا نی کو ٹھندا کر کے چھان لیں اور اسے اپنے سر پر لگا لیں اگر آپ پیاز کی بو برداشت کر سکتے ہیں تو اسے سارا دن لگا رہنے دیں اور اگر انہیں برداشت کر سکتے اور کوئی پریشانی ہو تی ہے تو ایک گھنٹے بعد صاف پانی سے سر دھو لیں صرف ایک ہفتہ لگا تار ایسا کرنے سے دیکھیں گے کہ بال پھر سے اگنا شروع ہو جا ئیں گے ارو جو بال جھڑتے تھے وہ بند ہو نا شروع ہو جا ئیں گے انشاء اللہ۔ جیسا کہ آج کے دور میں ہر کوئی ہی جانتا ہے کہ بالوں کے مسئلے مسائل بہت ہی زیادہ بڑھ چکے ہیں۔ تو ان مسائل کی وجہ سے ہر کوئی شخص بہت ہی زیادہ پریشان ہے تو ہمیں ان مسائل پر توجہ دینی چاہیے اور ایسا کوئی کام کر نا چاہیے کہ ہمیں بالوں سے متعلق کوئی بھی مسئلہ مسائل پیدا ہی نہ ہو سکے۔ تو ہمیں بالوں سے متعلق ہر مسئلے کا حل مل گیا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *