مو ت سے کتنی دیر پہلے ملک الموت نظر آ تا ہے؟ فرشتہ روح کیسے نکالتا ہے؟ کس وقت تک توبہ قبول ہوتی ہے؟

مو ت اس دنیا میں انسان کی زندگی کے خاتمے کا نام ہے دنیا میں جوبھی انسان آ یا ہے اسے ایک دن واپس ضرور جا نا ہے یہ انسان کی زندگی کا سب سے بڑا ح ا دثہ ہے جس کے بعد اس دنیا سے اس کا تعلق ختم ہو جا تا ہے اور ایک نئی زندگی شروع ہو جا تی ہے قیا مت کے زلزلے کے ساتھ بھی

یہ زندگی بھی ختم ہو جا ئے گی پھر ایک نیا دور شروع ہو گا جس کی کامیابی اور ناکامی کا انحصار انسان کے اپنے اعمال پر ہو گا۔ ہم میں سے کوئی بھی نہیں جانتا کہ اس کی م و ت کب آ ئے گی لیکن ہم سب اسی دن کی طرف دوڑ رہے ہیں ایسی صورت ِ حال میں اصل کرنے کا کام اس دن کی تیار ی کر نا ہے تا کہ اس کے بعد جب ہم مالکِ کائنات کے سامنےپیش ہوں تو کوئی شرمندگی نہ ہو مو ت کے بعد انسان اکیلا رہ جا تا ہے مو ت انسان کو ہر چیز سے جدا کر دیتی ہے۔ مو ت ہر انسان کا پیچھا کر رہی ہے۔ مگر انسان اسے ہی بھولے ہوئے ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس آخری وقت کو روزانہ یاد کر یں اور اس کی تیاری میں لگے رہیں۔ ترجمہ: کہ انسان خواہ کتنی بھی لمبی زندگی چاہے لیکن ایک دن م و ت آ پہنچتی ہے۔ سکرات و الم وت مو ت کی سختیاں م و ت کی حقیقت کولے کر آ پہنچتی ہیں اور یہی وہ بات ہے جس سے انسان بھاگتا ہے۔ م و ت کا ذکر نہیں سننا چاہتا۔ مو ت سے فرار حاصل کر نا چاہتا ہے لیکن م و ت اس کو آ پکڑتی ہے یہاں بنیادی طور پر انسان کی کیا حالت ہو گی اس کو

بھی بیان کیا گیا ہے۔ ترجمہ: ہر انسان کے لیے مو ت کی سختی اور شدت اور اس کا چمٹنا اور اس کی تکلیف ہر کے ساتھ ملکر آ چکا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں اور اس کے ساتھ کوئی جھوٹ نہیں ہے سکرا کیا چیز ہے یہ وہ چیز ہے جو عقل کو ختم کر دیتی ہے سکرا کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ یہ ایک ایسی حالت ہو تی ہے کہ انسان کی عقل اور اس کے درمیان حائل ہو جا تی ہے اور اکثر یہ چیز نش ہ پیدا کرنے والے مشروب میں استعمال کی جا تی ہے یعنی انسان ہوش میں نہیں رہتا سکرا کو غصے کے معانی میں بھی استعمال کیا جا تا ہے غصے تکلیف اور عشق نے ن شے میں ڈال دیا اور کہتے ہیں اس سے مراد م و ت کی سختی ہے یعنی م و ت کی سکرات مراد ہے۔ یعنی م و ت کی تکلیف سے غشی طار ی ہو جاتی ہے کیونکہ روح کا کھینچا جا نا وغیرہ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *