جب کوئی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے معدے کی شکایت کرتا

رسول اکرم ﷺ کے اہل خانہ میں سے جب کوئی بیمار ہوتا تو حکم ہوتا کہ اس کے لئے تلبینہ تیار کیا جائے ،پھر فرماتے کہ تلبینہ بیمار کے دل سے غم کو اُتار دیتاہے اور اس کی کمزوری کو یوں اتار پھینکتا ہے کہ جیسے تم میں سے کوئی اپنے چہرے کو دھو کر اس کی غلاظت اتار دے ۔رسول اکرم ﷺ

نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا کہ جبرائیل میں تھک جاتا ہوں تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جواب میں عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ آپ تلبینہ نوش فرمایا کریں ۔خواتین و حضرات آج کی جدید سائنسی تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ جَو میں دودھ کے مقابلے میں دس گنا زیادہ کیلشیم پایا جاتا ہے اور پالک سے زیادہ فولاد موجود ہوتا ہے اس میں تمام ضروری وٹامنز پائے جاتے ہیں ،پریشانی اور تھکن کے لئے تلبینہ کھانے کا ارشاد ملتا ہے۔نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ یہ دل کے امراض کا علاج ہے اور دل سے غم کو اتار دیتا ہے ۔جب کوئی نبی اکرم ﷺ سے بھوک کی کمی کی شکایت کرتا تو آپ ﷺ اسے تلبینہ کھانے کا حکم دیتے اور فرماتے خدا کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے یہ تمہارے پیٹوں سے غلاظت کو اس طرح اُتار دیتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے چہرے کو پانی سے دھو کر صاف کر لیتا ہے ۔ نبی پاک ﷺ کو مریض کے لئے تلبینہ سے بہتر کوئی چیز پسند نہ تھی لیکن وہ اسے نیم گرم کھانے ،بار بار کھانے اور خالی پیٹ کھانے کو زیادہ پسند فرماتے تھے ۔تلبینہ نہ صرف

مریضوں کے لئے بلکہ صحت مند افراد کے لئے بھی بہت ہی بہترین چیز ہے ۔جس کو بھی معدے کا کوئی مسئلہ ہے السر ہے بچے ہوں بوڑھے ہو ں یا جوان ہوں سب کے لئے بہت ہی بہترین دوا بھی ہے ،شفاء بھی ہے اور عطاء بھی ہے خاص کر دل کے مریض ،ذہنی امراض ،کولیسٹرول کے مریض ،دمہ الغرض تمام امراض کے لئے بہت ہی زبردست ہے ۔خواتین و حضرات اگر آپ کو پیٹ کاکوئی مسئلہ ہے کوئی ڈپریشن کا مسئلہ ہے ،بہت ساری خواتین کو خاص کر موٹاپے کا مسئلہ ہوتا ہے تو وہ خواتین بھی تلبینہ کا ضرور استعمال کریں۔یہ آپ کی سکن کو بہت ہی خوبصورت بناتا ہے اور اس کے علاوہ بھی اس کے بہت سارے فوائد ہیں۔ تلبینہ کا ذکر صحیح احادیث میں آیا ہے ان احادیث میں صحیحین کی احادیث بھی شامل ہیں ۔یہ ایک غذا ہے جو سوپ کی طرح ہوتا ہے جو آٹے اور چھان سے بنایا جاتا ہے بعض اوقات اس میں شہد بھی ملا لیا جاتا ہے اسے تلبینہ اس لئے کہتے ہیں کہ اس کا رنگ دودھ جیسا سفید ہے اور یہ دودھ ہی کی طرح پتلا بھی ہوتا ہے بعض لوگ اس کو جَو کی کھیر بھی کہتے ہیں۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اکرم ﷺ کے اہل خانہ میں کوئی بھی بیمار ہوتا تو حکم ہوتا کہ اس کے لئے تلبینہ تیار کیا جائے ۔

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ایک اور روایت میں ہے کسی بیمار کے لئے تلبینہ پکایا جاتا تھا تو تلبینہ کی ہنڈیاں تب تک نہیں اُتاری جاتی تھی جب تک وہ تندرست نہ ہوجاتا ۔اس سے معلوم ہوا کہ نیم گرم تلبینہ مریض کو مسلسل اور بار بار کھلانا اس کمزوری کو دور کرتا ہے اور اس کے جسم کو بیماری سے مقابلہ کرنے کی طاقت فراہم کرتا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیمار کے لئے تلبینہ تیارکرنے کا حکم دیا کرتیں اور کہتی اگر چہ بیمار اس کو ناپسند کرتے ہیں لیکن یہ بیماروں کے لئے نہایت مفید ہے۔اس کو تیار کرنے کا طریقہ بہت ہی سادہ اور آسان ہے ۔اس کے لئے آپ جَو کا آٹا دو بڑے چمچ لیجئے اور ایک کپ تازہ پانی میں اس کو بھگو دیجئے ایک برتن میں دو کپ پانی تیز گرم کر لیجئے اور پھر اس گرم پانی میں بھگوئے ہوئے جو کے آٹے کو ڈال دیجئے اور صرف پانچ منٹ تک ہلکی آنچ پر پکاتے رہئے اور ہلاتے رہئے پھر اتار کر اس کو ٹھنڈا کیجئے جب یہ نیم گرم رہ جائے تو اس میں شہد حسب ِ ذائقہ شامل کر لیجئے اور پھر اس میں دو کپ دودھ نیم گرم شامل کر لیجئے یاد رہے دودھ اچھی طرح ابلا ہوا ہونا چاہئے۔تلبینہ تیار ہے چمچ سے تناول فرمائیے یا پھر گھونٹ گھونٹ نوش فرما لیجئے،اتنی مقدار دو آمیوں کے لئے کافی ہے ،دن میں بار بار بھی بنا سکتے ہیں چاہے تو ایک ہی بار بنا کر رکھ لیجئے ۔انشاء اللہ آپ کو تمام بیماریوں سے شفاء ملے گی۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ جَو کا دلیہ دودھ میں شامل کیجئے اور اس کو تقریبا ایک گھنٹے تک دودھ میں پکا لیجئے اور اس کی کھیر تیار کر کے اس میں شہد شامل کر لیجئے اور چاہیں تو اس میں کھجور بھی شامل کی جاسکتی ہے۔انشاء اللہ آپ کو تمام جسمانی امراض سے نجات حاصل ہو گی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *