یہ ایک سیکنڈ کا ذکر ننانوے مصیبتوں کا علاج۔ایک ہی سیکنڈ میں انشاء اللہ مقدر بدل جا ئے گا۔

کسی سے اگر کہاجائے کوئی پریشان آجائے بھائی یہ آپ کیوں پریشان ہیں آپ لا الہ الا اللہ پڑھا کریں تو وہ کیا کہتا ہے؟میری جان نکل رہی ہےاور تم کہہ رہے ہو کہ لا الہ الا اللہ پڑھو تو اچھا نہیں کہ جان نکلتے وقت لا الہ الا اللہ زبان پر آجائے اور جنت کا سودا ہوجائے اگر نکل بھی رہی ہے تو نکلنے د و لا الہ الا اللہ

پڑھ کر نکالو سب سے افضل ذکر لا الہ الا اللہ ہے صرف اس کا فائدہ قیامت کو ہی نہیں ہوگا بلکہ دنیا میں بھی ہو گاکثرت سے لا الہ الا اللہ کہنے والے سے رب تعالیٰ ننانوے بلائیں دور کردیتا ہے کونسی بلائیں جس دنیا میں رہ رہا ہے سب سے چھوٹی بلا غم ہے اگر غم چھوٹی بلا ہے تو اٹھانوے بلائیں تو غم سے بھی بڑی ہیں آج کل لوگ کارڈیالوجی کیوں جاتے ہیں غم کی وجہ سے کہ یہ دل کا مریض ہے اس کا مطلب یہ نکلا کہ اس سے بھی اٹھانوے بڑی بلائیں دور ہوسکتی ہیں اگر ہم چلتے پھرتے یہ پڑھیں لا الہ الا اللہ یہ کلمہ کتنا مبارک ہے یہ کلمہ کتنا پیارا ہےکسی کی زبان پر اگر جاری ہوجائے فوت ہوتے وقت دخل الجنہ کی خوشخبری آجاتی ہے کہ یہ شخص جنت میں داخل ہو گا۔ حضور نے پھر فرمایا : اے معاذ ! حضرت معاذ نے پھر عرض کیا : یا رسول اللہ میں حاضر خدمت ہوں اور فرمانبرداری کیلئے تیار ہوں۔ تین مرتبہ حضور نے اسی طرح فرما کر ارشاد فرمایا: جس شخص نے کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ، کی صدق دل سے گواہی دی اللہ تعالیٰ نے اُسے دوزخ پر حرام فرما دیا ہے ۔ حضرت معاذ نے عرض کیا : یا رسول

اللہ ! کیا میں لوگوں کو یہ خوشخبری نہ سنادوں ؟ فرمایا: پھر تو عام طور پر لوگ اسی پر بھروسہ کر لینگے ۔ حضرت معاذ نے اپنے انتقال سے کچھ پہلے کتمانِ علم کے گناہ سے بچنے کیلئے یہ حدیث بیان فرما دی ۔ حضرت محی الدین ابن العربی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انہ بلغنی عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم: انہ من قال لا الٰہ الا اللہ سبعین الفا، غفر اللہ تعالیٰ لہ و من قیل لہ غفر لہ ایضا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث پہنچی ہے کہ جو شخص ستر ہزار بار لا الٰہ الا اللہ پڑھے، اسکی مغفرت کردی جائے گی اور جس کے لیے پڑھا جائے، اسکی بھی مغفرت ہوجائے گی۔مزید فرماتے ہیں کہ میں نے اتنی مقدار میں یہ کلمہ پڑھا ہوا تھا لیکن اس میں کسی کے لیے خاص نیت نہ کی تھی۔ ایک مرتبہ اپنے دوستوں کے ساتھ ایک دعوت میں گیا، اس دعوت کے شرکاء میں سے ایک نوجوان کے “کشف” کا بڑا شہرہ تھا۔ کھانا کھاتے کھاتے وہ نوجوان رونے لگا۔ میں نے سبب پوچھا تو اس نے کہا:”میں اپنی والدہ کو عذاب میں دیکھتا ہوں۔” میں نے دل ہی دل میں 70 ہزار کلمہ کا ثواب اس کی ماں کو بخش دیا، وہ نوجوان فوراً ہی مسکرانے لگا اور کہا: اب میں اپنی ماں کو بہترین جگہ دیکھتا ہوں

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *