یہ دو پرندے کو نسے ہیں؟ ان میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ حضور ﷺ نے انہیں مارنے سے منع فر ما یا؟

حضور ِ اکرم ﷺ کی شانِ رحیمی او ر کریمی نہ صرف انسانوں کے ساتھ مخصوص تھی بلکہ آپ کی شان ِ رحمت کی وسعت نے جانوروں کے حقوق کے لیے بھی جد و جہد کی اور ان کو اپنے رحم و کرم کے سایہ سے حصہ وافر عطا کیا۔ اسلام نے ایک طرف جانوروں کے حقوق کی بھی بات کی ہے۔ حضرت

عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک انصاری شخص کے باغ میں داخل ہوئے تو وہاں ایک اُونٹ تھا۔ جب اُس نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو وہ رو پڑا اور اُس کی آنکھوں سے آنسو بہ نکلے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُس کے پاس تشریف لے گئے اور اُس کے سر پر دستِ شفقت پھیرا تو وہ خاموش ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: اِس اُونٹ کا مالک کون ہے، یہ کس کا اُونٹ ہے؟ انصار کا ایک نوجوان حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ میرا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بے زبان جانور کے معاملے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے جس کا اللہ تعالیٰ نے تمہیں مالک بنایا ہے۔ اس نے مجھے شکایت کی ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو اور اس سے بہت زیادہ کام لیتے ہو۔‘‘اِس حدیث کو امام ابو داود، احمد، ابن ابی شیبہ اور ابو یعلی نے روایت کیا ہے۔ امام

حاکم نے فرمایا: اِس حدیث کی سند صحیح ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا: اِس کی سند میں عبد الحکیم بن سفیان نامی راوی ہے، امام ابن ابی حاتم نے اُس کا بغیر کسی جرح کے ذکر کیا ہے اور اُس کے علاوہ بھی تمام رجال ثقہ ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز ظہر ادا فرمائی تو ایک اُونٹنی باندھی ہوئی دیکھی اور فرمایا: اِس سواری کا مالک کہاں ہے؟ تو کسی نے جواب نہ دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور نماز ادا فرمائی۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوگئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹنی کو بدستور بندھا ہوا پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سواری (اونٹنی) کا مالک کہاں ہے؟ تو اُس کے مالک نے جواب دیا: یا نبی اللہ! میں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں ہے۔ یا اسے باندھ کر رکھ (اور چارہ ڈال) یا اسے کھلا چھوڑ دے تاکہ وہ خود چارہ وغیرہ کھا لے کچھ ایسے پرندے بھی ہیں جن کو مارنے سے اللہ کے نبی ﷺ نے منع فر ما یا ہے اور فر ما یا ہے کہ ان پرندوں کو مت مارو۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.