”رات کو اللہ پاک کے یہ 2اسم مبارک پڑھتے ہوئے سو جائو ، خواب میں کیا نظر آئے گا ، مایوس افراد کیلئے زبردست وظیفہ“

اس تحریر میں استخارہ کے فوائد اس کی فضیلت اس کا طریقہ پیش کیا جارہا ہے ۔استخارہ کیا ہے؟کسی بھی اہم معاملے میں اللہ سے خیر اور بھلائی طلب کرنے کو استخارہ کہتے ہیں مثلا کاروبار شادی سفر وغیرہ کیونکہ انسان کو معلوم نہیں کہ کونسی چیز اس کے لئے خیر اور کونسی شر ثابت ہوگی استخارہ کی فضیلت

کے بارے میں ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں ہر کام میں استخارہ کرنے کی تعلیم اس طرح دیتے جس طرح قرآن مجید کی سورت کی تعلیم دیتے آپ فرماتے تم میں سے کوئی شخص جب کسی کام کا ارادہ کرے تو فرض کے علاوہ دو رکعتیں ادا کرے پھر یہ کہے اے اللہ بے شک میں تجھ سے تیرے علم کی بدولت خیر طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کی بدولت تجھ سے طاقت مانگتا ہوں اور تیرے فضل عظیم کا طلبگار ہوں کہ بے شک تو ہی قدرت رکھتا ہے اورمجھے کوئی قدرت نہیں علم تجھ ہی کو ہے اور میں کچھ نہیں جانتا اور تو تمام پوشیدہ باتوں کو جاننے والا ہے اے اللہ اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام جس کے لئے استخارہ کیا جارہا ہے میرے دین معاش اور کام کے انجام کے اعتبار سے میرے لئے بہتر ہے تو اسے میرا مقدر کر دے اور اس کو میرے لئے آسان کردے پھر اس میں میرے لئے برکت پیدا کردے اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے دین معاش اور کام کے انجام کے اعتبار سے برا ہے تو اسے مجھ سے دور کر دے اور مجھے بھی اس سے دور کر دے اور خیر جہاں بھی ہو اسے میرا مقدر بنا دے اور پھر مجھے اس پر مطمئن کر دے اس کا طریقہ یہ ہے ۔استخارہ کے لئے کوئی وقت مخصوص نہیں ہے جب ضرورت پڑے اس وقت

استخارہ کیا جاسکتا ہے جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب کسی کام کا ارادہ کرے وہ دن ہو یارات ہو ایسی ہی ہر اختیاری کام میں استخارہ کیا جاسکتا ہے البتہ فرائض میں استخارہ نہیں ہوگا کیونکہ ان کا کرنا واجب ہے یہ دعا ہے جو نماز سے باہر کی جاتی ہے استخارہ کرنے کے بعد نیک لوگوں سے مشاورت کرلی جائے استخارہ و تو کرلیا اب اسی پر آخری فیصلہ مت کریں اب اس کام کے ماہر لوگوں سے اگر آپ کوئی کام شروع کرنا چاہ رہے ہیں تو اس کام کے ماہر لوگوں سے مشورہ کر لیاجائے کیونکہ اللہ قرآن کریم میں ارشاد فرماتے ہیں وامرھم شوریٰ بینھم اور ان کے معاملات باہم مشورے سے طے ہوتے ہیں امام ابن تیمیہ کہتے ہیں جس نے اللہ سے استخارہ کیا اور مخلوق سے مشورہ کیا پھر اس کام میں جلد بازی نہ کی کیونکہ جلد بازی شیطان کا کام ہے غوروفکرکےبعد فیصلہ کیا وہ کبھی نادم نہیں ہوگا استخارہ کے بعد مشورہ بھی ضروری ہے استخارہ کے بعد خواب آنا لازمی نہیں کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ استخارہ خواب میں ہی ہوگا خواب آئے گا تو استخارہ ہاں یا ناں ہوگا خواب آ بھی سکتا اور نہیں بھی ہاں کوئی اشارۃ آپ کو ایسا معلوم ہوجائے گا یا آپ کا دل اس کام کی طرف مائل ہوگا اگر نہیں کرنا ہوگا تو دل اس طرف سے اچاٹ ہوگا ایسا ہی غیب معلوم کرنے مثلا چوری کا مال کس نے چوری کیا یا جادو وغیرہ کے لئے استخارہ کرنا یا کروانا دونوں ناجائزہیں غیر مسنون طریقے مثلا قرآن مجید یا کمپیوٹر وغیرہ کے ذریعے استخارہ کروانا بھی درست نہیں ۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.